فوجی عدالتوں کے لیے قانونی سازی اور پی ٹی آئی کے استعفے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جمعے کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دوبارہ مذاکرات ہوں گے: عارف علوی

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے مطلوبہ قانون سازی کے مرحلے پر ان کی جماعت نے اپنے منتخب اراکین کے استعفے واپس لیتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔

یاد رہے کہ پشاور کے سانحے کے بعد عمران خان نے چار ماہ سے جاری اپنی احتجاجی تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام سمیت دہشت گردی کے خلاف قومی ایکش پلان پر بھی ملک کی تمام سیاسی قیادت کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے ترجمان عارف علوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کی تشکیل کے لیے مسودہ قانونی کی تیاری کے مرحلے میں جماعت نے اپنی شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے تاہم ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ پی ٹی آئی دھرنے کے بعد استعفے بھی واپس لے گی یا نہیں۔

پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کی تشکیل کا مسودہ قانون مرتب کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے رکن حامد خان کا نام دے دیا گیا تھا۔

کیا پی ٹی آئی کے اراکین فوجی عدالتوں کے لیے آئین سازی میں بطور رکن اسمبلی حصہ لیں گے؟ اس سوال پر عارف علوی کا کہنا ہے کہ فی الحال پارلیمنیٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔

’جی نہیں فی الحال ہماری جماعت کا فیصلہ یہ ہے کہ جب تک تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ نہیں آجاتی تب تک ہم پارلیمیٹ میں نہیں جا رہے، اگر جماعت اس پر نظر ثانی کرے گی تو پھر ہی اس کا امکان ہوگا۔‘

یاد رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔

عارف علوی کے مطابق ’جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، اس کے قانون اور اصول و ضوابط پر جمعے کو بات ہوگی۔‘

پشاور حملے کے بعد پی ٹی آئی نے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد اے پی سی نےملک سے انسداد دشہت گردی کے لیے فوجی عدالتوں سمیت کل 20 اہم نکات پر اتفاق رائے کیا ہے۔

اسی بارے میں