فوجی عدالتوں کے قیام پر ایچ آر سی پی کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ HRCP
Image caption ایچ آر سی پی کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ ماضی میں کئی بار قرار دے چکی ہے کہ فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن نے دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی اہلکاروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کو اس بات پر افسوس ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے جبکہ ماضی میں بعض نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایچ آر سی پی کو اس فیصلے پر متعدد خدشات ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق: ’اس فیصلے سے نہ صرف عدلیہ کی وقعت کم ہوئی ہے بلکہ اس سے ملک میں آزاد اور مضبوط عدلیہ پر عدم اعتمار کا اظہار ہوتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ ماضی میں کئی بار قرار دے چکی ہے کہ فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں۔‘

انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ’شہریوں کا فوجی عدالت میں مقدمہ ہمیشہ سے ایک متنازع مسئلہ رہا ہے اور اعلیٰ عدالتیں اس کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔‘

’تیز تر انصاف کا نظام کبھی بھی شفاف ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی تیز۔‘

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ’اس فیصلے سے خدشہ ہے کہ ان فوجی عدالتوں میں سیاسی مخالفین کو خصوصاً بلوچستان اور سندھ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

ادارے نے بیان میں کہا کہ ’ ایچ آر سی پی سمجھتی ہے کہ اس وقت زیادہ ضرورت تفتیش اور استغاثے کے نظام میں تیزی سے اصلاحات کرنے کی ہے۔ ان اصلاحات میں تفتیش کے زیادہ واضح طریقۂ کار ہونے چاہییں نہ کہ تشدد اور دباؤ سے، اس کے علاوہ اس میں گواہوں، وکلا اور ججوں کا تحفظ بھی شامل ہونا چاہیے۔ ‘

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں جب سپریم کورٹ خود دہشت گردی سے متعلق مقدمات جلد از جلد نمٹانے کی کوشش میں ہے، جلد بازی میں کیا گیا یہ فیصلہ جواب طلب ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی

واضح رہے کہ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فوجی افسران کی نگرانی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔

وزیرِ اعظم کے اعلان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ جس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی جس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی
  • کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
  • دینی مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے سپیشل اینٹی ٹیررازم فورس بنائی جائے گی۔
  • پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں کی خبریں نشر کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
  • انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
  • وسیع ترسیاسی مفاہمت کے لیے تمام سٹیک ہولڈروں کی جانب سے بلوچستان حکومت کو اختیار دیا جا رہا ہے۔
  • دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
  • پنجاب سمیت ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائےگی۔
  • کراچی میں جاری آپریشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
  • فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا رہی ہے۔
  • افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے ابتدائی مرحلے کے ساتھ ان کے بارے میں ایک جامع پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں