اور میٹنگ برخاست ہو گئی۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption کتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت نے کالعدم قرار دیا لیکن وہ نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال ہو گئیں۔ کتنی ہی شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کھلے عام زہر اگل رہی ہیں

پشاور کے سکول میں طالبان کے ہاتھوں 130 بچوں کے قتل ہونے کے بعد سول حکومت اور فوج نے آخر کار شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ٹھان لی ہے۔

ماضی میں ہوئیں کُل جماعتی کانفرنسوں کی طرح اس بار بھی آل پرٹیز کانفرنس کے بعد ملک میں جاری شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اس لائحہ عمل کا اعلان وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب میں کیا۔

اس 20 نکاتی لائحہ عمل میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے علاوہ شائد ہی کوئی اور نئی بات ہو۔ ان عدالتوں کی سربراہی فوجی افسران کریں گے اوریہ دوسال کے لیے قائم کی جائیں گی۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات فوری طور پر نمٹانا ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار شہری اور فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیکن اس سے قبل تو انہی وزیر اعظم نے پچھلے سال جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے قریب فوجی مشقوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہی شدت پسندوں کو ’معاشرے کےگمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ افراد قرار دیا تھا۔

یہ وہی حکومت ہے جس نے امن کو موقع دینے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے بات چیت کے ذریعے امن کی بحالی کی اپنی خواہش کو دہرایا تھا۔

لیکن اسی حکومت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پشاور سانحہ کے بعد ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ 2013 میں جب طالبان اور دیگر گروپوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا گیا اس وقت فوجی آپریشن کرنا چاہیے تھا۔

20 نکاتی ایکشن پلان میں شدت پسندوں کی مالی وسائل کے حصول کے تمام ذرائع ختم کرنے، فرقہ واریت، انتہا پسندی اور عدم برداشت پر مبنی نفرت انگیز مواد اور پروپیگنڈا کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہیں۔

لیکن کیا یہ آئین کا پہلے ہی سے حصہ نہیں ہیں؟ ضرورت ہے تو ان قوانین پر علمدرآمد کرانے کی۔

کتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت نے کالعدم قرار دیا لیکن وہ نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال ہو گئیں۔ کتنی ہی شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کھلے عام زہر اگل رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار شہری اور فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں

لیکن کیا کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی یا ان کو نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال نہ ہونے دینے یا شدت پسند تنظیموں کو سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا نہ کرنے دینے کے لیے بھی قومی ایکشن پلان ہی کی ضرورت ہے یا کسی کی اجازت کی؟

شدت پسندی کے خلاف حکومتی ردِ عمل کے حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا جب ایک عالمی تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے طالبان کے حوالے سے اسلام آباد اور کابل کے سٹاف کی میٹنگ ہوئی۔

اس میٹنگ میں طالبان کے حوالے سے جامع پالیسی بنانے کے لیے بھرپور سفارشات پیش کی گئیں۔ یہ میٹنگ کوئی دو گھنٹے سے چل رہی تھی جب میٹنگ کی صدارت کرنے والے جرمن افسر نے کہا ’قطع کلامی معاف، لیکن کیا یہ سب کچھ کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی اجازت ہے؟‘

اور میٹنگ برخاست ہو گئی۔

اسی بارے میں