پشاور سکول حملے کا سہولت کار مارا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق صدام خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے کئی حملوں میں ملوث تھے

خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کا سہولت کار کمانڈر صدام ایک کارروائی میں مارا گیا ہے۔

جمعے کے روز پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی خیبر ایجنسی کے علاقے غنڈئی میں کی۔

انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں چھ عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے جنھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

صدام کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ممنوعہ شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان کے طارق گیدڑ کہلانے والے دھڑے کا آپریشنل کمانڈر تھے۔

انھوں نے چند ماہ قبل خیبر ایجنسی میں ایک پولیو ٹیم پر حملہ کیا تھا جس میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ وہ سکیورٹی فورسز پر کئی دوسرے حملوں میں ملوث بتائے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور میں سکول پر حملے میں ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے کئی کارروائیوں میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے متوازی خیبر ایجنسی کے کچھ علاقوں میں بھی خیبر ون کے نام سے فوجی آپریشن جاری ہے جس میں حالیہ ہفتوں کے دوران تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں