’غیر معمولی صورتحال کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’وزیرِ اعظم نواز شریف نے جواب میں کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کو فون کر کے ان پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں پھانسیوں پر عمل درآمد بند کر کے اس پر عائد پابندی دوبارہ بحال کی جائے۔

پاکستانی حکومت نے گذشتہ ہفتے پشاور میں سکول حملے کے بعد ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد فوری طور پر شروع کر دیا تھا۔

تاہم وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان بین الاقوامی برادری کی عزت کرتا ہے لیکن ملک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے جس کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پرامن پاکستان دنیا کے مفاد میں ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ مسٹر بان کی مون نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے بات کی ہے اور انھیں کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لیں۔

پھانسیاں: درست قدم یا جذباتی ردِ عمل؟

فوری پھانسیاں قانون کے پھندے میں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بان کی مون نے جمعرات کو پاکستانی وزیرِ اعظم کو فون کر کے ان سے پشاور میں بچوں کی ہلاکتوں پر اظہارِ افسوس کیا۔

بان کی مون کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس مشکل صورتِ حال کو پوری طرح سے سمجھتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پھانسیاں بند کر کے سزائے موت کے عمل درآمد پر عائد پابندی دوبارہ نافذ کی جائے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے جواب میں کہا کہ ’تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔‘

اس ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں فوج کے زیرِ اہتمام چلنے والے سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 134 بچوں سمیت ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے بعد سے پاکستانی حکومت چھ ایسے افراد کو پھانسی دے چکی ہے جو دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث تھے۔ اس سے قبل پچھلے چھ برس سے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل تھا۔

پاکستانی حکومت نے مزید کہا ہے کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں قریباً پانچ سو مزید عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی جائے گی۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے یورپی یونین کے اسلام آباد مشن نے بھی پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ موت کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دے۔

یورپی یونین کے مشن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس غم کے موقعے پر پاکستان کے ساتھ ہے مگر وہ کسی بھی صورتِ حال میں موت کی سزا کے مخالف ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ موت کی سزا دہشت گردی سے لڑنے کا مناسب ہتھیار نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں