جھوٹ موٹ کی کالیں مہنگی پڑگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

پاکستان میں ایک شخص کو جھوٹ موٹ کی کالیں کرنے کے جرم میں 26 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کی ایک عدالت میں سنیچر کو استغاثہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص نے پولیس کو دو مرتبہ ٹیلی فون کر کے کہا کہ اس نے عوامی مقامات پر بم لگا دیے ہیں۔

30 سالہ محمد یوسف نے وسطی پنجاب کے شہر ملتان میں پولیس کو کال کر کے کہا تھا کہ اس نے ایک مصروف بازار اور بچوں کے ایک پارک میں بم لگائے ہیں۔

کال کے جواب میں پولیس اور بم ڈسپوڈل سکواڈ کے اہلکار دونوں مقامات کی جانب روانہ ہوئے لیکن انھیں وہاں کوئی بم نہیں ملے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سرکاری وکیل مشتاق ملک کا کہنا تھا کہ محمد یوسف نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تھا جس کے بعد انھیں جھوٹ موٹ کی کالیں کرنے اور غلط معلومات فراہم کرنے کے جرائم میں 26 سزا قید سنائی گئی۔

مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ اصل میں محمد یوسف کا کسی شخص کے ساتھ کاروباری جھگڑا چل رہا تھا اور اس نے اپنے حریف کو پھنسانے کے لیے غلط کالیں کرنے کے لیے اس کی فون سِم استعمال کی۔

پولیس نے اگست میں اس سِم کا سراغ لیا تھا جس کے بعد محمد یوسف اور اس کے دوست کو گرفتار کیا۔

انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت کے جج سجاد شیخ نے اس مقدمے کا فیصلہ بدھ کو سنایا تھا تاہم اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان سنیچر کو کیا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور میں سکول کے بچوں کے قتلِ عام کے بعد حکومتِ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اقدامات سخت کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محمد یوسف نے 28 جولائی کو پولیس کو فون کیا اور اپنا نام حفیظ بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے نیشنل بینک کی ایک شاخ کے قریب بم لگا دیا ہے جو دس منٹ میں پھٹ جائے گا۔ لیکن پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کو وہاں کچھ بھی نہیں ملا۔

اس کے بعد اسی شخص نے 30 جولائی کو وہی سِم استعمال کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پولیس کو فون کیا اور کہا کہ اس نے ملتان میں شاہ شمس پارک کے قریب بم لگا دیا جو دس منٹ میں پھٹنے والا ہے۔

پولیس اور بم ڈسپوزل سکاڈ کے اہلکار ایک مرتبہ پھر بتائے ہوئے مقام پر پہنچ گئے، لیکن انھیں وہاں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں دکھائی دیا۔

دوسری کال کے بعد ملتان کے ایس ایس پی آپریشنز کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی جس نے سارے معاملے کا کامیابی سے سراغ لگا کر محمد یوسف کو گرفتار کر لیا اور اس نے عدالت میں اعتراف جرم کر لیا۔

اسی بارے میں