تربیت گاہیں بنیں تاکہ اگلا عالمی چیمپیئن پاکستان سے ہو: عامر خان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان ایک محفوظ جگہ ہے‘

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کا کہنا ہے کہ انھیں پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بچوں پر ہونے والے حملے کا بہت دکھ ہے اور وہ ان بچوں کے والدین سے ملاقات کے لیے پشاور جائیں گے۔

یہ بات انھوں نے اتوار کو لاہور میں داتا دربار پر حاضری کے بعد میڈیا سے کہی۔

عامر خان نے کہا کہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ایک بہتر جگہ بن جائے جہاں امن و اتحاد ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان ایک محفوظ جگہ ہے‘۔

نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق انھوں نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں امن چاہتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

عامر خان کے بقول پاکستان میں ہر طرح کے باصلاحیت لوگ موجود ہیں۔ ’ہمیں یہاں تربیت گاہیں اور جمنیزیئم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگلا عالمی چیمپیئن پاکستان سے ہو اور میں اس سلسلے میں تربیت کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور معیشت کو بھی ترقی دینا ہو گی۔

باکسر عامر خان نے کہا کہ ان کو یہاں آنے سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ ’پاکستان مت جاؤ کیونکہ وہ ایک خطرناک جگہ ہے لیکن میں دنیا کو دکھانا چاہتا ہیں کہ یہاں کوئی خطرہ نہیں اور یہ ایک پر امن جگہ ہے‘۔

عامر خان نے کہا کہ ’ذہنیت تبدیل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اگر ہم اچھے مسلمانوں کی طرح خدا پر بھروسہ کریں اور اپنی کوششیں جاری رکھیں تو لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے‘۔

خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے امریکہ کے ڈیون الیگزینڈر کوشکست دے کر عالمی باکسنگ کونسل کا سلور ویلٹر ویٹ اعزاز کا دفاع کیا تھا۔

اس موقع پر انھوں نے اپنی 30 ہزار پاؤنڈ مالیت کی نیکر پشاور کے آرمی سکول کی تعمیرِنو کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں