قومی ایکشن پلان پر پیش رفت کے جائزے کے لیے اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ دہشت گردانہ سوچ کا بھی خاتمہ بھی کیا جائے گا

وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منگل کو طلب کیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو منعقد ہونے والے اجلاس میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل، خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈی جی اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے ایک قانونی مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ نئے مجوزہ قانون سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے علاوہ حساس مقامات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھائی اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں قومی ایکشن پلان کے نفاذ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نےسنیچر کو قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کے لیے 15 ذیلی ورکنگ گروپ قائم کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے والے ادارے نیکٹا کو زیادہ فعال بنانے کی ہدایت کی تھی۔

16 دسمبر کو پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کے بعد سے ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔

اس حوالے سے متعدد بار وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جبکہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قومی ایکشن پلان کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پلان پر موثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔

قومی ایکشن پلان کی منظور گذشتہ ہفتے وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں متفقہ طور پر دی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں بّری فوج کے سربراہ نے بھی شرکت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور میں سکول پر حملے کے بعد سے ملک میں بلاامتیاز تمام دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے مطالبات میں شدت آئی ہے

قومی ایکشن پلان کے تحت قبائلی علاقوں کے لیے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ان عدالتوں پر نہ صرف حقوق انسانی کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا ہے بلکہ حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی اس فیصلے کی حمایت کے بعد دبے دبے الفاظ میں عدالتوں کے دائرہ کار کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سنیچر کو ملک کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر ایک تقریر میں سابق صدر آصف علی زردای نے فوجی عدالتوں کے بارے میں کہا تھا کہ عوام اور ملک کی سکیورٹی کے پیش نظر اس قسم کا قانون ضروری ہو چکا ہے، لیکن ’اس قانون پر اسی صورت میں دستخط ہوں گے جب ہمیں یقین ہو گا کہ اس قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ نہ ہو کہ ’اس قانون کے تحت میں، میاں صاحب اور دیگر رہنما جیل میں ڈال دیے جائیں۔‘

پشاور میں سکول پر حملے کے بعد قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان نے بھی پاکستان کی سرحد کے قریب شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں