ٹمبر مارکیٹ کی آگ سے سیاسی حدت میں بھی اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس حادثے سے ٹمبر مارکیٹ کے دکانداروں کے علاوہ بالواسطہ طور پر بھی سینکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں

کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں سنیچر کی شب لگنے والی آگ پر تو 11 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا تھا تاہم اس کی حدت نے کراچی کے سیاسی ماحول کو ایک مرتبہ پھرگرما دیا ہے اور فی الحال اس کی تپش میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں جہاں کبھی دکانیں تھیں وہاں اب صرف جلی ہوئی لکڑیوں اور دکانوں کے ملبے کا ڈھیر ہے۔

اس آگ سے درجنوں لوگ براہِ راست متاثر ہوئے جن کی دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ انھی دکانداروں میں ایک عبدالشکور سومرو بھی ہیں جن کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب تقریباً ایک بجے کے لگ بھگ آگ لگی تھی جسے بجھانے کےلیے گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی مگر اس کا پانی جلد ہی ختم ہوگیا تو وہ دوبارہ پانی لینے چلی گئی اور اس دوران آگ مزید بھڑک گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک مزید گاڑیاں آتیں اس وقت تک سب کچھ جل چکا تھا۔

اس حادثے سے دکانداروں کے علاوہ بالواسطہ طور پر بھی سینکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں جو ان دکانوں سے سامان اٹھاتے تھے یا یہاں کام کیا کرتے تھے۔

اس جلی ہوئی مارکیٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں نے متاثرین کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں جن میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کے علاوہ مذہبی جماعتیں بشمول فلاح انسانیت فاؤنڈیشن شامل ہیں جو جماعت الدعوۃ کے زیرِ انتظام ہے۔

ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر اس واقعے سے نمٹنے میں ناکامی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اسے تباہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فاروق ستار کے مطابق پوری رات جب وہاں آگ لگی ہوئی تھی سندھ حکومت کا کوئی نمائندہ جائے حادثہ پر نہیں پہنچا اور اس طرح مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔

دوسری جانب سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی الزامات لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر جاوید ناگوری صبح پانچ بجے سےجائے حادثہ پر موجود تھے جبکہ فاروق ستار خود دس بجے کے بعد پہنچے۔

سندھ کی سیاسی حدت میں ٹمبر مارکیٹ کی آگ نے اضافہ کردیا ہے تاہم وہاں کے متاثرین اب بھی کسی امداد کے اعلان کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں