ذکی الرحمٰن لکھوی کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردی کے ایک اور مقدمے کے تحت منگل کے روز اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا

پاکستانی حکام کے مطابق ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کو رہائی کے حکم نامے کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی حکم کو مانتے ہوئے انھیں رہا کر دیا گیا تھا لیکن اسلام آباد پولیس انھیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر کے لے گئی ہے اور انھیں اب سے تھوڑی دیر پہلے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے جس کے بعد انھیں دو جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ محمد داؤد نامی ایک شخص نے تھانہ گولڑہ میں درخواست دی تھی کہ اس کے برادر نسبتی کو ملزم ذکی الرحمٰن جہاد کی خاطر ورغلا کر ساتھ لے گئے تھے، جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔

دوسری جانب ملزم کے وکیل رضوان عباسی نے کہا ہے کہ ان کے موکل کو ایک چھ سالہ پرانا مقدمہ کھول کر پھنسایا جا رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ موکل گذشتہ چھ سال سے جیل میں ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف زیر دفعہ 365 مقدمہ درج کیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ سزا سات برس ہے۔

ملزم کے وکیل رضوان عباسی کے مطابق ان کے مؤکل کے خلاف اغوا کا جو مقدمہ درج کروایا گیا ہے اس کی صحت مشکوک ہے۔

’جس شخص کو مغوی ظاہر کیا گیا ہے اس کا پتہ افغانستان کا درج کیا گیا ہے جبکہ مقدمہ درج کروانے والی کی ولدیت پتہ یا کوئی اور شناخت موجود نہیں ہے۔‘

رضوان عباسی نے کہا کہ حکومت بھارتی دباؤ کے باعث ان کے مؤکل کو ہر قیمت پر قید رکھنا چاہتی ہے اور ایسا کرنے کے لیے اس جعلی مقدمے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکی الرحمٰن لکھوی کو وفاقی حکومت کی طرف سے تین ماہ کے لیے نظربند کرنے کا حکم معطل کر دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نورالحق قریشی نے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ وفاقی حکومت 29 دسمبر کو جواب داخل کروانے کی بجائے مزید مہلت مانگتی رہی، تاہم اس نے ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا کہ انھیں کس سلسلے میں مہلت درکار ہے۔

ادھر بھارت نے پاکستان میں عدالت کی جانب سے ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کا حکم معطل کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔

بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں پیر کو نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ ہفتے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد اُنھیں خدشۂ نقضِ امن کے تحت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ہی میں نظر بند کر دیا تھا۔

اسی بارے میں