ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کا حکم معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قانونی ماہرین کے مطابق ضمانتی مچلکہ جمع ہونے کے بعد ذکی الرحمٰن لکھوی (وسط) کی رہائی میں کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہ جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کو وفاقی حکومت کی طرف سے تین ماہ کے لیے نظربند کرنے کا حکم معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نورالحق قریشی نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت آج 29 دسمبر کو جواب داخل کروانے کی بجائے مزید مہلت مانگتی رہی، تاہم اس نے ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا کہ انھیں کس سلسلے میں مہلت درکار ہے۔

حکومت کی طرف سے جہانگیر جدون نے عدالت میں حاضر ہو کر موقف پیش کیا کہ دیگر اہم ملکی امور میں مصروف ہونے کی وجہ سے حکومت جواب داخل نہیں کروا سکی، اس لیے اسے مزید مہلت کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کی 26 تاریخ کو ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل نے 16 ایم پی او کے تحت اپنے موکل کی نظربندی کو چیلنج کیا تھا، اور عدالت نے اس ضمن میں حکومت سے 29 دسمبر کو جواب طلب کیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں مزید کہا ہے کہ ملزم اب فوری طور پر عدالت میں دس لاکھ کا ضمانتی مچلکہ متعلقہ عدالت میں جمع کروائے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ ممبئی سازش کیس کی ہر سماعت میں پیش ہو گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ضمانتی مچلکہ جمع ہونے کے بعد ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی میں کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہ جائے گی۔

وفاقی حکومت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت سے متعلق انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو ابھی تک اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا۔

سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے اس ضمن میں کہا کہ انھیں ابھی تک عدالت سے اس فیصلے کی مصدقہ نقل موصول نہیں ہوئی اس لیے وہ اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ ہفتے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد اُنھیں خدشۂ نقضِ امن کے تحت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ہی میں نظر بند کر دیا تھا۔

ادھر بھارتی حکومت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرے۔

اسی بارے میں