’زیادہ تر امریکی امداد متاثرینِ ضربِ عضب پر خرچ کی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے پیر کو ملاقات کی اور امدادی رقم کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا

حکومت پاکستان نے امریکہ کی جانب سے کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امدادی رقم کا بڑا حصہ اس سال شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بحالی پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کو بتائی ہے جنھوں نے سوموار کے روز وزیرخزانہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

پاکستان کو فلاحی منصوبوں کے لیے امریکہ 50 کروڑ ڈالر سالانہ امداد دیتا ہے جس کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان یہ رقم بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

تاہم وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے امریکی سفیر کو بتایا کہ اس سال اس رقم کا بڑا حصہ متاثرین ضرب عضب کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔

وزیرخزانہ نے امریکی سفیر کو یہ بھی بتایا کہ حکومت بہت جلد امداد دینے والے ممالک اور اداروں کو شمالی وزیرستان میں بحالی کے سرکاری پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دے گی تاکہ ان ملکوں سے اس پروگرام پر عمل کرنے میں مدد کی درخواست کی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قبائلی علاقے میں بیشتر ترقیاتی کام فوج ہی کی نگرانی میں کیے جانے کی توقع ہے

اسی نوعیت کی ایک بریفنگ پچھلے مہینے بھی منعقد کی گئی تھی جس میں غیر ملکی سفیروں نے حکومت سے کئی سوالوں کے جواب اور یقین دہانیاں طلب کی تھیں جن کا حکومت کے پاس اس وقت جواب نہیں تھا۔

ان میں سے ایک شمالی وزیرستان میں بحالی آپریشن میں خرچ ہونے والی رقم پر سویلین کنٹرول سے متعلق سوال تھا۔ غیر ملکی سفیروں کو بتایا گیا تھا کہ قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے اور وہاں جاری فوجی آپریشن کے باعث بیشتر ترقیاتی کام فوج ہی کی نگرانی میں کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومت نے ان سفرا کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اس مد میں خرچ ہونے والی رقم کو شفاف رکھا جائے گا۔

سرکاری اندازوں کے مطابق حکومت کو شمالی وزیرستان میں شہری زندگی بحال کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ گذشتہ ماہ ہونے والی کانفرنس میں امداد دینے والے ملکوں اور اداروں نے اس کا نصف دینے کے وعدے کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز جون میں ہوا تھا

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی اس سال جون میں شروع ہوئی تھی۔ اس آپریشن کے دوران وہاں کس قسم کی اور کتنی تباہی ہوئی ہے اس بارے میں آزاد ذرائع سے تفصیلات تا حال دستیاب نہیں ہیں لیکن آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والے وفاقی وزیر برائے قبائلی علاقہ جات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ حکومت شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے دس لاکھ افراد کو جلد از جلد اپنے گھروں کو بھجوانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے تعمیراتی کام کا جلدی شروع ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں