فوجی عدالتیں: متبادل قانونی طریقہ کار پر’اتفاق‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر وزیراعظم بھی اس کی منظوری دے دیں گے تو کافی مسئلہ حل ہوجائے گا

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے آئین میں ترمیم پر اختلافات کے بعد اب ایک اور قانونی طریقہ کار پر وزیراعظم کی ٹیم اور ان کے درمیان تقریباً اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس سے قبل فوجی عدالتوں سے متعلق پارلیمانی جماعتوں کے قانونی ماہرین کا اجلاس منعقد ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ قانونی مسودہ تو مسترد کر دیا ہے تاہم دونوں جماعتیں اتفاق رائے کے قریب ہیں۔

’وزیراعظم کی ٹیم اور ہمارے درمیان ایک دو باتوں پر ہم آہنگی ہوگئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر وزیراعظم بھی اس کی منظوری دے دیں گے تو کافی مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون میں بڑی تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے تاہم پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ آئین میں تبدیلی کے بغیر فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے مؤثر قانونی مسودہ بن سکتا ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا ’بڑے اسرار اور تکرار کے ساتھ میں نے یہ موقف لیا ہے کہ آئین میں کوئی ترمیم نہ ضروری ہے اور نہ ہونی چاہیے اور قانون اور مسودہ ایسا بنایا جا سکتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کو صلب کیے بغیر موثر قانون بنایا جا سکتا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت کو فوجی عدالتوں کے لیے دی گئی تجاویز پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آرمی ایکٹ کے تحت مذہبی اور فرقہ ورانہ دہشت گردی کی کارروائی کرنے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین کے تحت موجودہ عدالتوں کے ہی اختیار سماعت میں صرف ایک مخصوص اور محدود حد تک اضافہ کیا جائے اور اس میں صرف اور صرف ان دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے کا اختیار جو مذہبی اور فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث ہوں۔‘

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ قوم پرستی اور لسانی یا کسی اور بنیاد پر دہشت گردی کے امور میں ملوث افراد کو بدستور سولین عدالتوں، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت بنائی جانے والی عدالتوں کے تحت سزائیں ملنی چاہیں اور یہ عدالتیں بدستور کام کرتی رہیں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایسے قانون کو برؤے کار لایا جائے جو پارلیمینٹ کا معمولی ایکٹ ہو اور آئینی ترمیم نہ ہو۔‘

پارلیمانی جماعتوں میں اپوزیشن جماعت کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی حکومت سے اختلاف کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے قانونی ماہر حامد خان کے مطابق ان کی جماعت فوجی عدالتوں کے قیام کی ہی مخالف ہے اور عمران خان نے کبھی بھی فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کی۔

رابطہ کرنے پر حامد خان نے بتایا کہ انھوں نے بدھ کو ہونے والے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تاہم اپنا تحریری بیان بھجوا دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت آئین میں تبدیلی کر کے فوجی عدالتیں بنانا چاہتی ہے جو پی ٹی آئی کو تسلیم نہیں ہے۔‘

فوجی عدالتوں مخالفت

پاکستان کے پارلیمان میں جن جماعتوں نے ابتدا میں ہی فوجی عدالتوں کی مخالفت کی تھی ان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا نام سرفہرست ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے حکومت کی حمایت تو کر دی گئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی آئینی ترمیم کے یہ ممکن نہیں ہو سکتا اگر ایسا ہوا تو ممکنہ طور پر سپریم کورٹ ماضی کی طرح ایک بار پھر فوجی عدالتوں کو کالعدم قرار دے دے گی۔

دوسری جانب جماعت اسلامی جس کا کوئی رکن قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی میں شامل نہیں اور اب بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہی ہے۔

جماعت کے رہنما فرید پراچہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت آرمی ایکٹ میں تبدیلی کو تو قبول کر لے گی لیکن پاکستان کے آئین میں تبدیلی تسلیم نہیں کرے گی اور وہ اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کل جماعتی کانفرنس میں بھی کر چکی ہے۔

فرید پراچہ کے مطابق معاملہ جب قومی اسمبلی میں آئے گا تو ان کا ردعمل بھی سامنے آ جائےگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے ایوان بالا سے بدھ کو کیے جانے والے خطاب میں واضح طور پر کہا ہے کہ فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی اور دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے مجوزہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی اقدامات کا خاکہ تیار کر لیا ہے جسے پارلیمینٹ سے منظور کروایا جائے گا۔

اس سے قبل دسمبر24 کی شب قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق کل جماعتی کانفرنس میں منظور کروائی گئی ’قومی ایکشن پلان‘ کا ذکر جن الفاظ میں کیا تھا اس میں آئینی ترمیم کا ذکر نہیں تھا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے خطاب میں کہا تھا کہ ’ماضی میں دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث مجرم قانونی نظام کی بعض کمزوریوں کے باعث سزا سے بچتے رہے لہٰذا فوجی افسران کی سربراہی میں اب سپیشل ٹرائل کورٹس قائم کی جا رہی ہیں تاکہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے عناصر بلاتاخیر اپنے انجام کو پہنچائے جا سکیں۔ ان خصوصی عدالتوں کی مدت دو سال ہوگی۔‘

اسی بارے میں