’پاک امریکی سٹریٹیجک مذاکرات رواں ماہ اسلام آباد میں ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے لیے تاریخوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین سٹریٹیجک مذاکرات اس ماہ اسلام آباد میں ہوں گے جس میں امریکی وفد کی قیادت امریکی وزیرخارجہ جان کیری کریں گے۔

یہ بات پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کواسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ سٹریٹیجک مذاکرات کے لیے انتظامات اور امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے لیے تاریخوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

سٹریٹیجک مذاکرات ایسے وقت میں شروع ہونے جا رہے ہیں جب پاکستانی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نومبر میں دو ہفتوں کے لیے امریکہ گئے تھے جہاں انھوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

شکر گڑھ میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر سے سخت احتجاج کیا ہے اور واقعے کی تفصیلات پر مبنی ایک احتجاجی مراسلہ اُن کے حوالے کیا ہے۔

’بھارت کی طرف سے ہمارے فوجیوں کو سفید جھنڈا لہرا کر اجلاس کے لیے بلایا گیا اور بعد میں اُن پر حملہ کردیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ مفاہمت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’بھارت کی طرف سے ہمارے فوجیوں کو سفید جھنڈا لہرا کر اجلاس کے لیے بلایا گیا اور بعد میں اُن پر حملہ کردیا گیا‘

بدھ کو پیش آنے والے واقعے میں پاکستان اور بھارتی کی سرحدی فوجوں نے ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے مطابق شکر گڑھ کی ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف نے فلیگ میٹنگ کے لیے بلا کر فوجیوں پر حملہ کیا جس کے نیتجے میں دو پاکستانی رینجرز ہلاک ہوئے۔

تاہم بھارت کی سرحدی فوج بی ایس ایف کا موقف ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کی ایک گشتی ٹیم پر حملہ کیا جس میں اس کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ بی ایس ایف نے جوابی کارروائی میں چار پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے اور اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے۔

جب اُن سے ممبئی حملوں کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کیس کے بارے میں پوچھا گیا تو دفتر خارجہ کی ترجمان نے عدالتی معاملے پر واویلا کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ بہتر انداز میں چلایا جا رہا ہے اور میڈیا ٹرائل کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشتگرد حملہ ممبئی حملوں سے دو سال پہلے کیا گیا تھا تاہم اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انھوں نے اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے اعلیٰ سطح پر یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان کو دہشت گرد حملوں کی معلومات فراہم نہیں کیں۔

اسی بارے میں