’کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں جاری رہیں تو ان کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سرگرم 60 ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے اور اس کے باوجود اگر یہ اپنا کام جاری رکھنے پر بضد رہیں تو پھر ان کے کیس بھی فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں ایک طویل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

’اس وقت پاکستان میں 60 سے زائد کالعدم تنظیمیں موجود ہیں جو نام تبدیل کر کے یا پھر خاموشی سے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کے لیے طریقۂ کار وضع کر دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے ان کے فنڈز کو بلاک کیا جائے اور ان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی بھی شروع کی جائے اور اگر ان سب کے باوجود وہ اپنا کام جاری رکھنے پر بضد ہیں تو ان کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کی طرف بھیج دیے جائیں ۔‘

وزیر داخلہ نے اس وقت ملک سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد میں قومی سطح پر عوام کے تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ملک میں دو سال کے لیے غیر اعلانیہ قومی سکیورٹی ایمرجنسی لگا دینی چاہیے۔‘

’ہم نے دو سال میں اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں اور اس میں ہمیں اپنی تمام تر توجہ، سیاست، تمام تر طاقت اور تمام تر وسائل اس پر لگائیں کیونکہ پاکستان میں امن ہو گا تو باقی چیزیں ہوں گی۔‘

’فوجی عدالتوں کا غلط استعمال نہیں ہوگا‘

وزیر داخلہ نے نیوز کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتیں کسی سیاست دان، کسی کاروباری شخصیت، میڈیا سے وابستہ یا عام آدمی کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔

اس کے ساتھ انھوں نے فوجی عدالتوں کے بارے میں اس تاثر کو بھی رد کیا کہ جو کوئی بھی فوجی عدالتوں میں جائے گا اسے پھانسی دے دی جائے گی۔

’فوجی عدالتیں صرف اور صرف دہشت گردوں کو اپنی وضاحت اور صفائی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ فراہم کریں گی، یہ کوئی کینگرو کورٹس نہیں ہیں بلکہ ان کے باقاعدہ طور پر ایک اصول ہیں اور اس میں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ملٹری کورٹس کینگرو کورٹس ہیں اور یہاں جو کوئی بھی جائے گا اسے یا تو سزا ہو جائے گی یا پھانسی ہو جائے گی۔‘

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اگر کوئی مدرسہ کسی دہشت گرد اور ممنوعہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی کسی بھی طرح سے معاونت کر رہا ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ کارروائی ثبوتوں کی بنیاد پر کی جائیں گی اور یہ معلومات بانٹی جائیں گی۔

وفاقی وزیرِ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور کارروائیوں میں وفاق کے علاوہ صوبوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ آئین کے تحت زیادہ اختیارات صوبوں کے پاس ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایکشن پلان میں آئین کے مطابق زیادہ اختیار صوبوں کا ہے۔

چوہدری نثار نے بتایا کے ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جس کا نمبر1717 ہے۔ اس نمبر پر کسی بھی مشکوک شحض یا حرکت کے بارے میں اطلاع دی جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکرز کے منفی استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور اگر اس کا استعمال بھی فرقہ وارانہ کشیدگی یا نفرت پھیلانے کے لیے کیا جائے تو اس کی بھی شکایت ہیلپ لائن پر دی جا سکتی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تمام ذرائع بند کروائیں اور کارروائی کریں۔

انھوں نے بتایا کے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مذہبی تعصب کے معامالات پر فوری ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ تمام صوبوں میں شہری آبادیوں افغان مہاجرین کی نشاندہی کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کہیں ان کے بھیس میں کوئی دہشت گرد تو نہیں ہیں۔

’پہلے مرحلے میں ایسے افغان مہاجرین کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی جنہیں خیمہ بستوں میں ہونا چاہیے اور وہ پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پھر انھیں واپس کیمپوں میں بھیجا جائے گا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں گرد ونواح میں لوگوں سے متعلق اعدادو شمار حاصل کر لیے گئے ہیں اور تمام مالک مکانوں کو اس بات پر متنبہ کر دیا گیا ہے کہ ان کے ہاں کوئی مشکوک کرایہ دار رہائش نہ اختیار کرے۔‘

اسی بارے میں