بلوچستان کے ضلع قلہ سیف اللہ سے نو افراد اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال کے دوران بلوچستان میں یہ اغوا کا پہلا بڑا واقعہ ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کے مطابق ضلع قلعہ سیف اللہ سے دو مختلف واقعات میں نو افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اغوا ہونے والے تمام افراد مسافر تھے اور انھیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو اغوا کیا گیا۔

قلعہ سیف اللہ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مغویوں میں سے پانچ افراد کوئٹہ سے ایک مسافر بس میں ژوب جا رہے تھے۔

اہلکار کے مطابق مسافر بس قلعہ سیف اللہ کے علاقے تنگہ میں ایک ہوٹل پر رکی تو نامعلوم مسلح افراد وہاں ایک گاڑی میں آئے۔

مسلح افراد مسافروں میں سے پانچ افراد کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

اغوا ہونے والے دیگر چار افراد ایک کار میں سوار تھے جو اسلام آباد سے کوئٹہ آ رہے تھے۔

اغوا ہونے والے افراد کا تعلق بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ہے۔ مغویوں میں ایک طالب علم کے علاوہ سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔

تاحال ان افراد کے اغوا کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے اور نہ ہی کسی نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رواں سال کے دوران بلوچستان میں یہ اغوا کا پہلا بڑا واقعہ ہے جبکہ چند روز قبل ضلع چاغی کے علاقے دالبندین سے ایک سکھ تاجر کو اغوا کرنے کے علاوہ کوئٹہ شہر سے بھی ایک شخص کو اغوا کیا گیا۔

گذشتہ سال دسمبر میں ضلع نصیر آباد سے دو مختلف واقعات میں پانچ افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں تین تبلیغی جماعت کے ارکان بھی شامل تھے جو دو روز قبل بازیاب ہوئے۔

دسمبر کے اوائل میں کوئٹہ شہر سے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو بھی اغوا کیا گیا تھا اور ان کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ان افراد کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

اسی بارے میں