مبشر لقمان اور سلمان اقبال پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ ARY
Image caption نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام ’کھرا سچ‘ میں میزبان مبشر لقمان نے عدلیہ مخالف پروگرام کیے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر عدلیہ سے متعلق توہین آمیز پروگرام نشر کرنے پر پروگرام کے میزبان مبشر لقمان اور نجی ٹی وی چینل کے مالک سلمان اقبال پر توہین عدالت کرنے پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

عدالت نے ملزمان کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو اس مقدمے میں پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے اور اُنھیں ہدایت کی گئی ہے کہ 14 روز کے اندر اندر استغاثہ کے گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کریں۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

ملزمان مبشر لقمان اور سلمان اقبال نے تحریری معافی نامہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت سے غیرمشروط معافی بھی مانگی تاہم عدالت نے اس معافی کو قبول نہیں کیا اور ملزمان پر فرد جُرم عائد کر دی۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل عرفان قادر اور بینچ کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ غیر مشروط معافی مانگنے کے باوجود عدالت نے اُنھیں معاف نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں سزا دینے کے معاملے پر بھی جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ ابھی تک متنازع ہے۔‘

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کا ایک معتبر ادارہ ہے جس پر عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’ملک کا آئین اور قانون سپریم کورٹ سے زیادہ معتبر ہیں۔‘

یاد رہے کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام ’کھرا سچ‘ میں میزبان مبشر لقمان نے عدلیہ مخالف پروگرام کیے تھے جس پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے آے آر وائی کی نشریات 15 روز کے لیے بند کردی تھیں جبکہ اُنھیں ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔

اسی بارے میں