شفقت حسین کی سزا سے پہلے ڈی این اے ٹیسٹ: نثار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شفقت حسین نامی مجرم کی پھانسی پر عمل درآمد روک دیا گیا: چوہدری نثار

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے مدارس اور میڈیا پر دہشت گردوں کو بلیک آؤٹ کرنے کا معاملہ زیر غور آئے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیرداخلہ چوہدری نثار احمد خان نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں میڈیا کو کسی بھی قسم کی پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے ایک خصوصی ترجمان مقرر کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے تاہم بہت سے دیگر امور ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے اور اس ضمن میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان معاونت کے لیے صوبہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں’ایپیکس‘ کمیٹیاں بنا دی گئی ہے جن کے مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہو چکے ہیں۔

البتہ تاحال سندھ میں کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہو سکی اور اس کے لیے آٹھ جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 47 ایسے مجرم ہیں جنھیں پھانسیاں دی جانی ہیں جبکہ مزید کیسوں کے آنے کی کی توقع ہے اور اس پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ شفقت حسین نامی پھانسی کے مجرم کا کیس دس سے 12 سال پرانا ہے، تاہم سول سوسائٹی کی جانب سے تحفظات سننے کے بعد ان کی پھانسی کی سزا موخر کر دی گئی ہےاور اب حکومت ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گی۔

’مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر شفقت حسین کے ٹیسٹ کے حوالے سے کوئی کوائف سامنے آگئے تو ازسرنو جائزے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔‘

کالعدم تنظیموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو کالعدم تنظیمیں نام تبدیل کر کے کام کر رہی ہیں، ان کے خلاف کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ افغان مہاجرین کی شناخت کے لیے عالمی ادارہ برائے مہاجرین سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ انھیں دوبارہ کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جو بھی مدارس کسی بھی حوالے سے دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں ان کے بارے میں جلد اجلاس بلایا جائے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے مدارس کی تعداد بہت کم ہے۔

چوہدری نثار نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کی خبروں کو ’بلیک آؤٹ‘ کرے، اس سے وہ 80 فیصد تک اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

سکولوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے بتایا کہ یہ ممکن نہیں کہ صرف دارالحکومت اسلام آباد کے 1600 سے زائد سکولوں کی سکیورٹی کے لیے چھ، چھ پولیس اہلکار کھڑے کر دیے جائیں تاہم اس سلسلے میں سکیورٹی پلان بن رہا ہے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ دہشت گرد پشاور سانحے کی طرح کا گھناؤنا اقدام کرنے کے لیے اب بھی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پولیس نے 1500 رضاکار لیے ہیں جنھیں خصوصی کارڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزراء نے شکوہ کیا کہ ’1717‘ قومی سروس نہیں صرف دہشت گردی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے لیکن اس پر موصول ہونے والی بیشتر کالوں میں گھریلو جھگڑوں سے متعلق فون کالز ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں