بچوں کی یادگار کی تعمیر کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے حکومت کی طرف سے اب تک ہونے والے اقدامات پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے ان کے بچوں کا خون فروخت نہ کیا جائے اور ان کو ہر معاملے میں اعتماد میں لیا جائے۔

سانحۂ پشاور میں مرنے والوں بچوں کے والدین کے فوکل پرسن عبدالواحد قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول پر حملے کو 24 دن پورے ہوگئے ہیں لیکن حکام بالا کی طرف سے تاحال انھیں مکمل طورپر لاعلم رکھا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک والدین کی تسلی نہیں کرائی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں اور کون کون گرفتار ہوا اور اس سلسلے میں حکومت کا مزید کیا منصوبہ ہے۔ سانحہ پشاور میں عبدالوحد قادری کے دو نواسے ہلاک ہوئے جو دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔

انھوں نے کہا کہ سکول پر حملے میں ان کے بچے ناحق مارے گئے لہٰذا اب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے نام سے ’یادگارِ شہدا‘ تعمیر کی جائے اور ان کے ناموں سے سکولوں کے نام موسوم کیے جائیں تاکہ بچوں کے والدین کے دلوں کو کچھ سکون مل سکے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر ان کو جو مراعات دی جاتی ہیں وہ ان غریب خاندانوں کو بھی دی جائیں جن کے بچے اس حملے میں مارے گئے۔

عبدالواحد قادری کے مطابق سکول حملے میں آٹھ کلاس فور اہلکار ہلاک ہوئے اور ان کے بچوں کو بھی مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ ماہانہ اعزازیہ دیا جائے تاکہ ایسے خاندانوں کو مالی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا ڈراما نہ رچائے بلکہ جو دہشت گرد ہیں ان کو سرعام لوگوں کے سامنے گولیوں سے چھلنی کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا کام کرنے کی جرات نہ کر سکے۔‘

عبد الواحد قادری نے مزید بتایا کہ بچوں کے والدین نے ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا رہا ہے جبکہ زیادہ تر والدین نے تنظیم میں شامل ہونے کےلیے رابطے کیے ہیں۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور میں تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے کام کرے گا۔ محکمۂ داخلہ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق افسران کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جو دن رات کام کر کے روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کریں گے۔

صوبائی حکومت نے تمام سرکاری سکولوں کی دیواریں آٹھ فٹ تک اونچی کرنے اور خاردار تاریں لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں اور پرنسپلوں کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اینڈرؤئڈ سسٹم بھی دیا جا رہا ہے جو دس سکینڈ میں دیگر تعلیمی اداروں کو آگاہ کر سکے گا۔

ادھر پولیس کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے سروے کا کام جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق اب تک نو سو سکولوں کی چیکنگ مکمل کر لی گئی ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بعد سے صوبہ بھر کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہے جبکہ حکومت نے 12 جنوری کو تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں