صرف مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی استدعا مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غداری کے مقدمے کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی گئی

پاکستان کے سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے صرف سابق فوجی صدر کے خلاف اس مقدمے کی عدالتی کارروائی جاری رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کی۔

غداری کیس: خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا گیا

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کے نزدیک ملک میں تین نومبر2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اقدام اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کے اکیلے کا نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے مواد میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے میں ایک سے زائد افراد شریک تھے۔

21 نومبر کے فیصلے میں خصوصی عدالت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی غداری کے مقدمے میں بطور شریک ملزمان شامل کرنے کا حکم تھا۔

تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ عدالت کی 21 نومبر 2014 کے حکم نامے کو کسی بھی عدالت نے کالعدم قرار نہیں دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کی رضا مندی سے اس مقدمے کی کارروائی روکنے سے متعلق حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

غداری کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل استغاثہ طارق حسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صرف اُن تین افراد کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا جسے خصوصی عدالت نے شریک جرم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت اس مقدمے کے مرکزی ملزم پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔

جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ ابھی تو ان تین افراد جن میں شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد شامل ہیں، کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ ہونا ہے۔

غداری کے اس مقدمے کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی درخواستوں پر خصوصی عدالت کو سنگین غداری کے مقدمے میں کارروائی سے روک دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے میں مقرر کی ہے جس میں ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ دیا جائے گا۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غداری کے مقدمے میں کسی کو شریک کرنے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے اور خصوصی عدالت نے ایسا حکم جاری کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

اسی بارے میں