متفقہ سافٹ کُو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران رونما ہونے والے واقعات سے اشارے ملتے ہیں کہ ملکی معلامات میں فوج کے عمل دخل میں اضافہ ہوا ہے۔

13 مئی 2013 کے عام انتخابات میں سابق فوجی صدر مشرف کو پھانسی پر لٹکانے کے نعرے کے ساتھ مسلم لیگ ن کو ایک پار پھر’ہیوی مینڈیٹ‘ ملا تو کئی تجزیہ کاروں کو حیرت ہوئی کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں اسٹیبلشمنٹ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوتی آئی ہے اس نے ایک ایسی جماعت کو سادہ اکثریت سے اقتدار میں پنجاب کے راستے اقتدار میں آنے کا کھلا راستہ کیسے دے دیا۔

مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں کے ساتھ ہی سابق فوجی صدر مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کر دیا۔ اسی کے ساتھ اپریل میں سینیئر صحافی حامد پر قاتلانہ حملے کے بعد حکمراں جماعت اور فوج کے درمیان تعلقات میں تناؤ کو سب نے محسوس کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرف پر غداری کے مقدمے کے بارے میں اب حکومتی جماعت بات کرنے سے کتراتی ہے

ان ہی واقعات کے دوران تحریک انصاف نے اسی پنجاب میں انتخابی دھاندلیوں کا شور مچانا شروع کر دیا جہاں سے حکمراں جماعت کو ’ہیوی مینڈیٹ‘ ملا تھا۔ اس کے ساتھ جون میں لاہور میں عوامی تحریک کے پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 14 کارکن مارے گئے اور سو کے قریب زخمی ہو گئے۔

اسی ماہ فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا گیا اور وزیراعظم نواز شریف، جنھوں نے کُل جماعتی کانفرنس میں منظوری کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، وہ کاغذ پر لکھی ایک مختصر تقریر لے کر پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ میں گئے اور وہاں فوجی آپریشن شروع کرنے کے بارے میں آگاہ کیا اور اس بعد دھرنوں سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے اور عوام کو ضرب عضب کے بارے میں فوجی پریس ریلیز سے معلوم ہوتا رہا۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد کے ڈی چوک کا رخ کیا اور وزیر اعظم سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا اور حکومت کی رٹ پہلے اسلام آباد کے ریڈ زون تک محددو ہوئی اور اس کے بعد اس علاقے کو بھی فوج کے حوالے کر دیا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے اردگرد گھیرا تنگ ہوتے محسوس کیا تو انھوں نے اپنے ہی تعینات کردہ فوجی سپاہ سالار جنرل راحیل کی طرف دیکھا لیکن کوئی خاص مدد نہیں ملی بلکہ اس فیصلے پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ساتھ میں ہی مشرف اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے اور دھرنوں کے عروج پر نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں ان کے انٹرویوز آنے شروع ہو گئے اور حکومت کی غداری کے مقدمے میں دلچپسی کم سے کم تر ہوتی گئی۔

حکومت کو قدرے ریلیف اس وقت ملا جب عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے پارلیمان کے سامنے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن اس کے کچھ عرصے بھی ڈی چوک میں براجمان عمران خان نے اپنے پلان سی کا اعلان کر کے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

اسی اعلان کے وقت اسلام آباد سے ہزاروں میل دور واشنگٹن میں جنرل راحیل کے طویل امریکی دورے کا اختتام امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات پر اختتام پذیر ہوا۔ اس دورے میں جان کیری نے ’پاکستانی فوج کو یکجا رکھنے والی قوت‘ قرار دیا۔

اس وقت افغانستان میں نیٹو افواج نے تقریباً اپنا تمام سامان واپسی کے لیے باندھ لیا تھا اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کے ساتھ محاذ گرم ہو چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption اسی اعلان کے وقت اسلام آباد سے ہزاروں میل دور واشنگٹن میں جنرل راحیل کے طویل امریکی دورے کا اختتام امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات پر اختتام پذیر ہوا

پھر عمران خان نے جس دن اپنے پہلے اعلان میں پورے پاکستان کو بند کرنے کا کہا تھا اسی دن 16 دسمبر کو ملکی تاریخ کے یوم سیاہ کو دہشت گردوں نے خون آلود کر دیا اور ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت پشاور میں جمع ہو گئی۔ جس دن بّری فوج کے سربراہ افغانستان میں موجود تھے اسی دن عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں جاری چار ماہ سے احتجاجی دھرنا یہ کہہ کر ختم کرنے کا اعلان کیا کہ پشاور کے کور کمانڈر نے انھیں جو حالات بتائے ہیں ان میں احتجاج کرنے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

پشاور میں سیاست دانوں نے دہشت گردی کے خلاف جس عزم کا اظہار کیا تھا اس کی توثیق کُل جماعتی کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ہوئی۔ اس کے بعد جب فوجی عدالتوں کے قیام پر تنازعات سامنے آنے لگے تو فوجی کمان کو یہ بیان دینے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت وسیع پیمانے پر ہونے والے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات کی وجہ سے ضائع نہیں کرے گی۔‘

اس کے فوری بعد دوبارہ کُل جماعتی کانفرنس طلب کی گئی جس میں عسکری قیادت نے شرکت کی اور اس میں آئی ایس آئی کے سربراہ سویلین سوٹ کی بجائے فوجی وردی میں نظر آئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کانفرنس کے آغاز پر تقریباً وہ ہی زبان استعمال کی جو دو دن پہلے کور کمانڈوں کی کانفرنس کے اعلامیے میں کی گئی تھی کہ فوجی عدالتوں کے مسودے پر اب مزید بحث کی گنجائش نہیں۔

اس کانفرنس کے تین دن بعد جس وقت پارلیمان میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے بل منظور کیا جا رہا تھا اس وقت عمران خان اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر اسلام آباد میں ڈی چوک میں جانے کا اعلان کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ملکی میڈیا پر جاری فوجی عدالتوں پر بحث کا رخ اپنی شادی کی طرف موڑ دیا۔

شاید یہ ایسا ہی تھا کہ جب راولپنڈی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے کرفیو نافذ تھا اور حکومت پر مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے پر دباؤ بڑھ رہا تھا تو عین اس صورتحال میں وزیر داخلہ نے مشرف کے خلاف غداری کا کیس شروع کرنے کا اعلان کر کے تمام تر توجہ کا رخ موڑ دیا۔

اسی دوران فوجی عدالتوں پر سیاسی جماعتوں میں سے سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے اعتراضات کرنا شروع کیے اور یہ اس وقت سندھ میں اپنی حکومت بچانے اور مشرف دور میں ’اچانک‘ ہی ایک ریسٹورنٹ میں جنرل مشرف سے ملاقات کرنے والے پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کو منانے اور اپنی جماعت میں فاورڈ بلاک روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور کراچی میں مشرف کی موجودگی کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔

دوسری جانب جنرل راحیل شریف ڈی جی آئی ایس آئی اور شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے ساتھ صوبوں کے دوروں پر ہیں جہاں وزیراعلیٰ اور صوبے کے تمام اعلیٰ انتظامیہ کی موجودگی میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سویلین وزیراعظم جنھوں نے 20 دن پہلے ایسے دوروں کا اعلان کیا تھا وہ اپنے پسندیدہ خطے کے ایک ملک بحرین کے دو روزہ دورے پر چلے گئے۔

اسی بارے میں