’ایران اور پاکستان کی سرحد پر کوئی کشیدگی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیستان بلوچستا ن کے گورنر علی اوساط ہاشمی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پرکوئٹہ آئے تھے۔

پاکستان کی سرحد سے متصل ایران کے علاقے سیستان بلوچستان کے گورنر علی اوساط ہاشمی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کی سرحد پر کوئی کشیدگی نہیں ہے تاہم بعض شرپسند سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

سیستان بلوچستان کے گورنر علی اوساط ہاشمی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پرکوئٹہ آئے تھے۔

اتوار کو کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’حالیہ دورے میں ہم نے پاکستانی حکام سے ہلاک ہونے والے ایرانی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی لاشوں کو ایران کے حوالے کرنے کے لیے کہا ہے۔‘

اس دورے کے دوران انھوں نے کوئٹہ میں اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ایرانی صوبے کے گورنر سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں جو واقعات پیش آرہے ہیں اس میں کون لوگ ملوث ہیں۔اگر اس میں غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں تو پھر پاکستانی سیکورٹی فورسز کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں امن و امان کا کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایرانی حکام کے مطابق سرحد پرکچھ عناصر ہیں جو شرارت کرتے ہیں اور ایرانی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے نہ کوئی خطرہ ہے اور نہ آئندہ رہے گا لیکن سرحد پرکچھ عناصر ہیں جو شرارت کرتے ہیں اور ایرانی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان اور بلوچستان کے حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کی سرز مین کو آلودہ ہونے سے بچائیں۔‘

ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایرانی فورسز کی جانب سے جوابی شیلنگ میں پاکستانی حدود میں عام لوگوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا اور کیوں ایرانی فورسز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’جو شرپسند عناصر ہیں وہ ہمارے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان حملوں میں ہمارے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعض کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔

ایرانی گورنر نے کہا کہ ’ہمارے بعض سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو مارکر ان کی لاشیں بھی حوالے نہیں کی گئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کہ ’حالیہ دورے میں ہم نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ ہمارے سیکورٹی فورسز کے جو اہلکار ہلاک ہوئے ان کی لاشیں ہمارے حوالے کی جائیں۔‘

علی اوساط ہاشمی نے کہا کہ ’ایران چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جو بھی معاہدے ہوں ان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایران کی خواہش ہے کہ ایران اپنی ضروریات ہمسایہ ممالک سے پوری کرے، اسی طرح وہ بھی ایران سے استفادہ کرسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کو گیس اور بجلی کی فراہمی کے لیئے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مثبت سوچ پیدا کرے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کو بڑھائیں اور مختلف اوقات میں پاک ایران سرحد پر جو ناخواشگوار سرحدی واقعات ہوتے ہیں ان کا مل جل کر مقابلہ کیا جائے ۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلدی عملی شکل دیا جائے۔

انھوں نے ایرانی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں معدنیات اور ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ڈاکٹر مالک نے کہا کہ ہم تفتان کے علاوہ پاک ایران بارڈر پر تین دیگر مقامات گوادر، کیچ اور پنجگور میں ایران کے ساتھ قانونی تجارت چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں