’دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے تعاون جاری رہے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں جان کیری نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رہے گا

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ دشمن ہیں۔ جان کیری سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے لیے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں جان کیری نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی جبکہ وہ سلامتی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں جان کیری نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رہے گا۔

اس موقع پر میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انھوں نے روزگار میں اضافے کے لیے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور امریکی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی کا مطالبہ بھی کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ مارچ میں کارروباری مواقع کے حوالے سے ’اسلام آباد کانفرنس‘ کامیاب رہے گی۔

امریکی وزیر خارجہ پاکستانی حکام کے ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹیرٹیجک ڈائیلاگ کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیں گے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں منعقد ہوا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق پیر کی شام مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان کی جانب سے وفد کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور خارجہ، سرتاج عزیز نے کی جبکہ امریکی وفد وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ موجود تھا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں میں تعاون اور دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسبی کے محتلف امور ہر تفصیلی بات چیت منگل کو بھی جاری رہی گی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے اہلکار کے مطابق دورے کے دوسرے روز منگل کو دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے بات چیت میں افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا معاملہ بھی اُٹھایا جائے گا۔

اہلکار کے مطابق دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران آرمی چیف اور دیگر عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

پیر کواسلام آباد پہنچنے سے قبل جان کیری نے بھارت کا دورہ کیا۔

پانچ جنوری کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفیر نے وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی تھی جس میں جان کیری کے دورے سے متعلق بات کی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستانی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی نومبر میں دو ہفتوں کے لیے امریکہ گئے تھے جہاں انھوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

Image caption امریکی حکام نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے سول اداروں کی امداد 2015 میں بھی جاری رکھی جائے گی

سول اداروں کی امداد جاری رکھنے کا عندیہ

دوسری جانب پاکستان اور امریکہ کے درمیان امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے تدارک کے سلسلے میں ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے سول اداروں کی امداد 2015 میں بھی جاری رکھی جائے گی۔

’لا انفورسمینٹ اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم‘ کے نام سے قائم ورکنگ گروپس میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری، سیکرٹری داخلہ شاہد خان جبکہ امریکہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور اشتراک کی سفیر ٹینا کیدانو سمیت امریکی سفیر رچرڈ اولسن، پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ڈین فیڈ مین اور قومی سلامتی کے سینئر ڈائریکٹر جیف ایگرز نے بھی شرکت کی۔

سفیر کیدانو نے کہا سکول کے بچوں، شہریوں اور امن وامان قائم کرنے والے اداروں کے اہکاروں پر تشدد اور مجرمانہ حملے کرنے والے گروہوں کے خلاف امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک عوام کی حفاظت اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

دونوں گروپس نے پاکستان سمیت خطے میں دھشت گردی کے لیےدھماکہ خیز مواد فراہم کرنے والے نیٹ ورکس اور ان کی مالی امداد کرنے والوں سے نمٹنے پر بھی بات چیت کی۔

دوسری جانب امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل لائیو آسٹن نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں پاک امریکہ حکام نے دو طرفہ دلچسپی کے امور سمیت دفاعی تعاون، خطے کی سیکیورٹی اور خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

سینٹ کام کے کمانڈر کی جانب سے پاکستانی فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر سراہا۔

اسی بارے میں