والدین کا موقف مسترد، انجلی شوہر کے حوالے

Image caption لڑکی کے والد کندن میگھواڑ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے

سندھ ہائی کورٹ نے جبری مذہب کی تبدیلی اور شادی کے مقدمے کی مرکزی کردار انجلی میگھواڑ عرف سلمیٰ کو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت دے دی ہے۔

ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے انجلی کے والدین نے اپنی بیٹی کے مذہب کی جبری تبدیلی اور شادی کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔

کم عمر ہندو بچی کو مسلمان کرا کے شادی کرانے پر احتجاج

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس صادق حسین بھٹی پر مشتمل ڈویزن بینچ میں بدھ کو مقدمے کی سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ لڑکی کو شیلٹر ہوم سے پیش نہیں کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے شیلٹر ہوم انتظامیہ کو فوری لڑکی کو پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

عدالت نے انجلی عرف سلمیٰ کو آدھا گھنٹہ والدین اور آدھا گھنٹہ ریاض سیال کے ساتھ ملاقات کروانے کا حکم جاری کیا اور بعد میں لڑکی کو مزید ایک گھنٹہ سوچنے کی مہلت دی۔

انجلی نے وکلا کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ان کی عمر اٹھارہ سال ہے اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور ریاض سیال سے بیاہ رچایا ہے، اب وہ شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔

عدالت نے ریاض سیال سے معلوم کیا کہ کیا ان کے پاس رہائش اور سیکیورٹی کا انتظام ہے، جس کے جواب میں ریاض سیال نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں سہولیات دستیاب ہیں فی االحال وہ کراچی میں ہی رہیں گے۔

اس پر عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور حکم جاری کیا کہ ریاض سیال پر دائر اغوا کا مقدمہ خارج کیا جائے۔

انجلی عرف سلمیٰ کے والد کندن لال کا کہنا تھا کہ فیصلے سے انہیں مایوسی ہوئی ہے اور سرٹیفیکیٹ کے مطابق لڑکی کی عمر بارہ سال ہے لیکن جعلسازی کرکے اس کی عمر اٹھارہ سال ظاہر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم غریب ہیں اور اتنی طاقت نہیں کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرسکیں۔‘

یاد رہے کہ ڈھرکی سے تعلق رکھنے والی انجلی کے والدین نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی مدد سے یہ درخواست کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ لڑکی کو اغوا کر کے اس کا مذہب تبدیل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں