بیت اللہ، حکیم اللہ اور اب فضل اللہ ’عالمی دہشتگرد‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں ملا فضل اللہ کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے

ملا فضل اللہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے تیسرے سربراہ ہیں جنھیں امریکہ نے عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان تینوں شدت پسندوں پر امریکی شہریوں یا تنصیبات پر حملوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں ملا فضل اللہ کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ درجہ دیے جانے کے بعد ملا فضل اللہ کے وہ تمام اثاثے جو امریکی دائرہ کار میں آتے ہیں منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں پر فضل اللہ سے کسی بھی ایسے لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔

سنہ 2007 میں جب تحریک طالبان پاکستان کا وجود عمل میں لایا گیا تو بیت اللہ محسود اس کے پہلے سربراہ چنے گئے۔

چند سال بعد جب تنظیم کو بعض کاروائیوں کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں شہرت حاصل ہوئی تو بیت اللہ محسود نے امریکہ میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ اگرچہ اس حملے میں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا تاہم اس کی ذمہ داری تحریک کی جانب سے قبول کی گئی۔

اس حملے کے بعد امریکہ نے بیت اللہ محسود کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا اور اس کے سر کی قیمت بھی مقرر کی تاہم اگست سنہ 2009 میں بیت اللہ محسود ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ان کے دست راست حکیم اللہ محسود کو تنظیم کا سربراہ بنایا گیا۔

حکیم اللہ محسود اس وقت امریکہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک دیگر ممالک کے توجہ کا مرکز بنے جب سنہ 2010 میں افغانستان کے صوبے خوست میں سی آئی اے کے ایک مرکز پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں سات امریکی ایجنٹوں کو ہلاک ہوئے۔

اس حملے کے بعد تحریک طالبان کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں سی آئی اے مرکز پر حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کے پہلو میں حکیم اللہ محسود بھی بیٹھے ہوئے تھے۔

اس ویڈیو کے منظر عام کے چند ماہ بعد امریکہ نے بیت اللہ محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کے فہرست میں شامل کرکے اس کے سر پر پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا۔

اس دوران دو مرتبہ امریکی ڈرون حملوں میں ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی تاہم سنہ 2013 میں وہ شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون طیارے کے حملے میں مارے گئے۔

تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیر ملا فضل اللہ پر الزام عائد جاتا ہے کہ وہ فروری سنہ 2010 میں خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں ایک گرلز پرائمری سکول کے قریب امریکیوں پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے، اس حملے میں تین امریکیوں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان ملاکنڈ ڈویژن کی جانب سے قبول کی گئی تھی جبکہ ملا فضل اللہ اس وقت اس شاخ کے امیر تھے۔

سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے میں تاخیر سے کام لیا حالانکہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملا فضل اللہ اور ان کےحامیوں نے حالیہ چند ماہ کے دوران چند بڑے بڑے حملے کیے ہیں جس کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی ہے جس میں ملالہ یوسفزئی اور آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے قابل ذکر ہیں۔

رحیم اللہ کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ اب ایک ہی صحفے پر نظر آ رہے ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ شدت پسندوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ فضل اللہ کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے سے زیادہ فائدہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو امریکہ یا کسی اور ملک میں اس کا کوئی کاروبار ہے اور نہ وہ وہاں جاتا ہے۔

پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔

پاکستانی حکومت متعدد بار افغانستان سے پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

اسی بارے میں