پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت پر ارکانِ پارلیمان کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ: یہ ایوان فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور دوبارہ اشاعت کی شدید مذمت کرتا ہے، اور اس نے مغربی ممالک کے روزناموں اور جرائد میں اس کے دوبارہ اجرا کو سنجیدگی سے لیا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی نے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔

قومی اسمبلی کے ارکان نے قرارداد کی منظوری کے بعد احتجاجی مارچ بھی کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پاکستان کے ایوان زیریں میں یہ مذمتی قرارداد بدھ کو وفاقی وزیربرائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پیش کی جسے متفقہ طور پر ایوان نے منظور کر لیا۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ:

یہ ایوان فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور دوبارہ اشاعت کی شدید مذمت کرتا ہے، اور اس نے مغربی ممالک کے روزناموں اور جرائد میں اس کے دوبارہ اجرا کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

یہ ایوان آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے تاہم عوام کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی مذمت کرتا ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے اسے عوامی اور مذہبی جذبات مجروع کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی نے اس قرارداد میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ایوان کی رائے میں پیغمبر اسلام سمیت تمام پیعمبروں کی توہین کا مقصد نفرت انگیزی ہے ۔

قرار دار کے مطابق یہ اقدامات جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد معاشروں میں تشدد پھیلانا اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے جو دہشت گردوں کے لیے عوامی جذبات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

مذمتی قرارداد پیش کرنے والے وفاقی وزیر سعد رفیق کے مطابق اس قرارداد کو ایوان بالا میں بھی پیش کیا جائے گا۔

ارکان کے احتجاجی مارچ کے بعد وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے پارلیمان کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت مغربی میڈیا کی سازش ہے۔

’پاکستان کی حکومت، پارلیمان اور عوام سب اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کی سازش ہے اور اس سے تمام مسلمانوں کی دل آزادی ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ صرف مسلمان اراکین بلکہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بھی اس حرکت کی مذمت کی ہے۔

وزیر برائے مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ اس مذمتی قرارداد کی کاپیاں ملک میں موجود تمام غیر ملکی سفارت خانوں، اقوام متحدہ، او آئی سی اور فارن مشنز کو بھیجی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آزادی صحافت کے نام پر گستاخانہ خاکوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

اسی بارے میں