سانحہ پشاور: ہلاک ہونے والوں کا چہلم وزیر اعلیٰ ہاؤس میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چہلم کی اس خصوصی تقریب میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے

پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کا چہلم بیس تاریخ کو ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے یہ چہلم وزیر اعلی ہاؤس میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس میں ولدین کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما اور اس تقریب کے منتظم بیرسٹر یونس ظہیر کے مطابق اس تقریب کے انعقاد کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ یہ خصوصی تقریب منگل کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوگی جس میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کے والدین، سکول کے استاتذہ خصوصی طور پر مد عو کیے جائیں گے۔

یونس ظہیر نے کہا کہ تقریب منگل کو صبح کے وقت شروع ہو گی جس میں قرآن خوانی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ چہلم کی اس خصوصی تقریب میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔

یونس ظہیر کے مطابق یہ سانحہ پورے پاکستان کا ہے اور اس کے لیے صرف تحریک انصاف نہیں بلکہ دیگر تمام جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے اور اس میں والدین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی جائے گی تاکہ انھیں بتایا جائے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

بچوں کے کچھ والدین کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک مدعو نہیں کیا گیا اور اور اس بارے میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

خیبر پختونخوا میں کسی کے غم اور خوشی میں شرکت کرنے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی دور حکومت میں وزرا اپنے علاقے میں لوگوں کے غم اور ان کی خوشیوں میں ضرور شرکت کرتے تھے۔

تحریک انصاف کی رہنما اس روایت پر عمل کرنے میں ناکام رہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو تحریک انصاف کی قیادت سے بہت گلے شکوے ہیں۔

چند روز پہلے جب عمران خان پشاور میں آرمی پبلک سکول پہنچے تھے تو اس وقت بھی کچھ والدین نےاحتجاج کیا۔ تحریک انصاف کے قائدین کا کہنا تھا کہ اس احتجاج میں سیاسی لوگ شامل تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آرمی پبلک سکول کی سکیورٹی کا سارا انتظام فوج کے پاس ہوتا ہے اور اگر والدین کو سکیورٹی کے حوالے سے شکایتیں تھیں تو وہ متعلقہ حکام سے کر سکتے تھے۔

اسی بارے میں