خیبر پختونخوا آپریشن: 400 مقامی، 125 افغان پناہ گزین حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صوبے کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن میں 1600 سے زیادہ مکانات اور 550 ہوٹل پر چھاپے مارے گئے

آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے اور دو روز میں 400 سے زیادہ مقامی اور 125 افغان پناہ گزینوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران مشتبہ افراد سے اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہی۔

سکولوں میں حفاظتی انتظامات کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور پولیس کی جانب سے کوئی 1400 سکولوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔

بیان کے مطابق کچھ سکولوں میں حفا\ظتی انت\طامات مکمل نہیں تھے جہاں انتظامیہ سے کہا گیا کہ وہ جلد سے جلد تمام حفاظتی اقدامات کریں۔

پولیس کے صوبائی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے صوبے کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن میں 1600 سے زیادہ مکانات اور 550 ہوٹل پر چھاپے مارے گئے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف تقیباً 96 مقدمات درج کیے گئے۔

بیان کے مطابق یہ چھاپے اور سرچ آپریشن صرف مکانات اور ہوٹلز پر ہی نہیں بلکہ راستوں میں چوکیوں اور مشتبہ مقامات پر موبائل چیکنگ کے دوران بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 133 چیک پوسٹوں سے 400 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر بھی یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن بھیجا جائے۔

پولیس کارروائیوں میں 125 سے زیادہ ایسے افغان پناہ گزینوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن کے پاس پاکستان میں رہنے کے لیے قانونی دستاویزات نہیں تھے۔

پاکستان حکومت اب تک ان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کر سکی۔ ان پناہ گزینوں کو اس سال دسمبر تک پاکستان میں رہنے کے اجازت نامے دیے گئے تھے۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ پولیٹکل انتظامیہ نے ان افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ واپس اپنے وطن چلے جائیں جن کے پاس باقاعدہ دستاویزات نہیں ہیں۔

اس بارے میں مقامی سطح پر اعلانات کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ ایسے افغان پناہ گزینوں کو مکانات کرائے پر نہ دیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں