ذکی لکھوی کی نظربندی میں ایک ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے حالات کو دیکھتے ہوئے سوچ بچار کے بعد ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے

وفاقی حکومت نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

حراست میں توسیع کا نوٹیفکیشن پیر کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ توسیع خدشۂ نقصِ امن کے تحت کی گئی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق اس نوٹیفکیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم کے رہا ہونے کے بعد اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں دوبارہ ملوث ہو جائے گا جو کہ ملکی قانون کے منافی ہوں۔

یاد رہے کہ ذکی الرحمن لکھوی کی ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں انسداد دہشت کی عدالت کی طرف سے ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے جس کے بعد حکومت نے اُنھیں خدشہ نقص امن کے تحت ایک ماہ کے لیے نظر بند کردیا تھا جس کی مدت اٹھارہ جنوری کو ختم ہوگئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی خدشہ نقص امن کے تحت حراست کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھجوا دیا تھا۔

ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کی حراست میں توسیع غیر قانونی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب ایک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو پھر حکومت کیسے حراست میں توسیع کر سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے یہ اقدام بھارتی حکومت کے دباؤ میں آ کر کیا ہے جبکہ حکومت کا یہ اقدام غیر آئینی ہے۔

رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام توہین عدالت کے ذمرے میں آتا ہے۔

ادھر حکومت نے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور کرنے کے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر رکھی ہے ۔

اسی بارے میں