’بندوقوں کے سائے تلے تعلیم‘

Image caption پشاور کے ایک سکول کے باہر سکیورٹی کا منظر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ہے لیکن شہر میں بدستور تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے، اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومتی اقدامات سے کشیدگی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔

آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر کے حملے کے نتیجے میں 150 افراد کے قتل عام کے بعد خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے تقریباً ایک ماہ تک بند رہے۔ توقع یہی کی جارہی تھی کہ سکول کھولنے کے بعد حالات رفتہ رفتہ معمول پر آ جائیں گے لیکن بظاہر معاملہ اس کے برعکس نظر آ رہا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے سکول حملے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں قائم تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو ایک ضابطہ کار جاری کیا، جس کے تحت تمام سکولوں میں محافظوں کی ہمہ وقت تعیناتی، داخلی و خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور سکولوں کی دیواریں اونچی کر کے وہاں خار دار تاریں لگانا لازم قرار دیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے اساتذہ کرام اور دیگر سٹاف کو سکولوں کے اندر لائسنس شدہ اسلحہ رکھنے کی اجازت بھی دے دی۔

صوبائی حکومت نے یہ اقدامات اس مقصد کے تحت کیے تاکہ سکولوں کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے لیکن اب تک ان انتظامات سے فائدے کی بجائے مزید خوف و ہراس پھیلنے کے اطلاعات مل رہی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ سانحۂ پشاور نے جہاں پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہاں اس حملے نے سکول جانے والے بچوں کو بھی براہ راست طور پر متاثر کیا ہے۔ اکثر والدین کا خیال ہے کہ سکول حملے سے طلبہ پہلے ہی خوف زدہ ہو چکے ہیں اور ان کا دل پڑھائی میں نہیں لگ رہا، لہٰذا ایسی حالت میں ان کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے تھا جو تناؤ سے پاک ہوں، لیکن آج کل سکول پہنچنے پر بچوں کا استقبال ہی بندوق بردار محافظ کرتے ہیں۔

یونیورسٹی ٹاؤن میں ایک نجی سکول سے اپنے دو بچوں کو لینے کے لیے آئے ہوئے ایک والد جلال یوسف زئی نے بتایا کہ سکولوں کے سامنے سکیورٹی کو دیکھ کر کبھی کبھی وہ بھی خوف زدہ ہوجاتے ہیں، بچے تو پھر بچے ہوتے ہیں۔

انھوں کہا کہ ’موجودہ حالات میں تو ایسا لگتا ہے کہ بچے اب تعلیم بندوقوں کے سائے تلے حاصل کریں گے اور جو لوگ ایسا کرنا چاہتے تھے وہ بظاہر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں۔‘

پشاور میں بعض بڑے بڑے نجی تعلیمی اداروں کے سامنے چھٹی کے وقت اتنے زیادہ پولیس اہلکار اور نجی محافظ نظر آتے ہیں کہ کچھ وقت کےلیے ایسا گمان ہوتا ہے کہ جیسے یہاں امن و امان کا کوئی مسئلہ پیش آیا ہو۔

بالخصوص ایسے تعلیمی ادارے جہاں امیر افراد ، وزرا اور افسران کے بچے پڑھتے ہیں وہاں ایک تو سکیورٹی پہلے سے زیادہ ہے اور دوسرا چھٹی کے وقت وہاں ہر بچے کو لینے کےلیے خود کار ہتھیاروں سے لیس ایک یا دو مسلح سکیورٹی گارڈز بھی ضرور موجود ہوتے ہیں جبکہ اس دوران تمام بچے اس سارے منظر کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

شہر میں سکول کھلنے کے بعد سے اگر کسی تعلیمی ادارے کے قریب کوئی ہوائی فائر بھی کرتا ہے تو اس کا اثر فوری طورپر سارے شہر کے تمام سکولوں پر پڑتا ہے۔ کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جس سے شہر بھر میں خوف و ہراس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکول کھلنے پر بچے خوش تو ہیں یلکن والدین کی شکایت ہے کہ غیر معمولی سکیورٹی ان کے بچوں کے لیے تناؤ کا باعث ہے

چند دن پہلے پشاور میں لڑکیوں کے ایک سکول میں نامعلوم افراد کی طرف سے ایک کفن پھینکا گیا جس کے ساتھ ایک خط بھی ملا تھا جس میں سکول انتظامیہ کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔ بعد میں جب پولیس کی طرف سے تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کسی لڑکے نے شرارت کی تھی۔

اس طرح کا ایک اور واقعہ پشاور یونیورسٹی کیمپس میں لڑکیوں کے ایک کالج کے اندر پیش آیا جہاں اندرونی دیوار پر وال چاکنگ میں دھمکی دی گئی تھی کہ عنقریب سکول پر حملہ کیا جائے گا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض لوگ موجودہ حالات کا فائدہ اٹھا کر دہشت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت کی طرف سے اساتذہ اور دیگر عملے کو سکولوں کے اندر لائسنس شدہ اسلحہ رکھنے کےاجازت بھی دے دی ہے جس پر عوامی حلقوں اور اساتذہ کی طرف سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ پرائمری سکولوں کے اساتذہ تنظیموں کا موقف ہے کہ استاد کا کام بچوں کو پڑھانا ہے ان کا تحفظ کرنا نہیں۔

پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدرملک خالد کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کی ذمہ داری ریاست اور حکومت کی ہے اور اگر اس میں کوتاہی کی جائے گی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ پر تمام ذمہ داری عائد کر کے خود اس اہم ذمہ داری سے جان چھڑا نہیں سکتی۔

پشاور میں تعلیمی اداروں کو کھلے ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا ہے لیکن بیشتر سکولوں میں حاضری پہلے کے مقابلے میں بدستور کم بتائی جاتی ہے۔

کئی والدین اب بھی گومگو کی کیفیت میں ہیں کہ بچوں کو سکول بھیجیں یا نہ بھجیں۔ اساتذہ کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقوں میں سرکاری سکول یا تو سرے سے بند ہیں یا وہاں بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی بارے میں