ہتک عزت کا دعویٰ، عمران خان کو سمن جاری

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ جوشِ خطابت میں انھوں نے سابق چیف جسٹس پر الزام لگا دیا تھا

وفاقی دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو 29 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق سمن جاری کر دیا ہے۔ اُنھیں عدالت میں طلبی کا نوٹس پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے دعوے پر جاری کیا گیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں اُن کے خلاف یک طرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے یہ دعویٰ عمران خان کی جانب سے سنہ 2013 میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کروانے کے الزام پر دائر کیا ہے۔

عمران خان نے دھاندلی کی ذمہ داری افتخار محمد چوہدری پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے ریٹرننگ افسران کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حمایت کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

افتخار محمد چوہدری نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ عمران خان اس بیان پر معافی مانگیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے ایسا نہ کرنے پر افتخار محمد چوہدری نے اُن پر بیس ارب روپے ہرجانے کا دعوی کیا ہے۔

اس سے پہلے عمران خان نے سابق چیف جسٹس کی طرف سے بجھوائے گئے نوٹس کے جواب میں کہا تھا کہ اُنھوں نے افتخار محمد چوہدری پر الزامات جوش خطابت میں لگائے تھے بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اپنے اس جواب سے انکاری ہوگئے تھے۔

پاکستان میں ہتک عزت کے دعوؤں سے متعلق بنائے گئے قوانین اتنے موثر نہیں ہیں اور ایسے مقدمات کے فیصلے ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت کے دوران بھی اگر ملزم غیر مشروط معافی مانگ لے تو عدالت کو اس مقدمے کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔ اس کے علاوہ ایسے حالات میں مدعی کسی بھی وقت اپنا مقدمہ واپس لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں