پنجاب میں دہشت گردوں سے ہمدردی جرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترمیمی آرڈینینس کے تحت دہشت گردوں کی حمایت اور دہشتگردی قابل دست اندازی پولیس جرم بن گیا ہے

پنجاب حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے تشدد کا پرچار کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق متعصبانہ تقاریر اور سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر ترمیمی آرڈیننس 2015 نافذ کر دیا ہے۔

اس آرڈیننس کے تحت دہشت گردی یا دہشت گردوں کی شان و شوکت بیان کرنے ان کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کرنے پیش کرنے اور اس طرح کی کسی بھی سرگرمی کی توجہیات پیش کرنے پر پابندی ہوگی۔

کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کے بارے میں ہمددری ابھارنے اور ان تنظیموں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو چیلنج کرنے روکنے اور نقصان پہنچانے کی ممانعت ہو گی۔

اور جو شخص بھی اپنی تحریروں تقریروں یا تصویری عکس بندی کے ذریعے ان میں سے کسی بھی سرگرمی میں ملوث پایا گیا اسے تین سال تک قید اور 50 ہزار سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

پنجاب کے محکمہ قانون کے ڈائریکٹر محسن عباس سید کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر، تحریروں اور مواد کی اشاعت سے متعلق قوانین موجود تھے لیکن دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت ان قوانین کے تحت جرم نہیں تھی۔ اب ان ترامیم کے تحت اسے بھی قابل دست اندازی پولیس جرم بنا دیا گیا ہے جو کہ ناقابل ضمانت ہے۔ اس کا سمری ٹرائل ہو گا جس میں فوری سزا ہو سکے گی۔‘

1960 کے پنجاب مینٹینس آف پبلک آرڈر میں چار ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے مطابق اب کسی بھی علاقے میں تھانے کا انچارج افسر براہ راست یا تحریری طور پر کسی بھی عوامی اجتماع کے منتظم کو اجتماع میں کی جانے والی تقریروں کی ریکارڈنگ کرنے اور 24 گھنٹے کے اندر انھیں تھانے کے متعلقہ اہلکاروں کو جمع کروانے کا حکم دینے کا مجاز ہو گا۔

ریکارڈنگ نہ کرنا بھی جرم ہوگا، جس پر چھ ماہ تک سزا اور 20 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔

اور اگر ان تقریروں میں کہیں بھی کوئی بھی شخص دہشت گردی اور اس میں ملوث افراد اور کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اس کی توجہیات پیش کرنے کے جرم میں ملوث پایا گیا تو اسے تین سال تک قید اور 50 ہزار سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

اس سوال پر کہ کیا ریڈیو ٹی وی کی نشریات اور اخبارات کی تحریریں اس زمرے میں شامل ہوں گی، محسن عباس سید کا کہنا تھا کہ ’ریڈیو اور ٹی وی پر کی جانے والی ایسی باتیں جو اس قانون کے تحت ممنوع ہیں وہ تو اہم ثبوت ہوں گی۔ اور ان کی ریکارڈنگ اس قانون کے تحت سزا کے لیے کافی ہو گی۔‘

معتبر صحافی اور آزادی اظہار کے کارکن امتیاز عالم کہتے ہیں کہ یہ قانون غیر واضح ہے اور اس میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔

’اسے ناقابل ضمانت قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اور درجہ اول کا مجسٹریٹ مقدمے کی سماعت کرے گا۔ یعنی پولیس کسی بھی اینکر، رپورٹر، صحافی یا مالک کو یہ کہہ کر پکڑ سکتی ہے کہ آپ کے فلاں پروگرام میں ان کے خیال سے کوئی ایسی بات ہوئی ہے جو اس قانون کی زد میں آتی ہے۔ بعد میں کیس چلتا رہے گا اور ضمانت بھی نہیں ہو گی۔‘

تاہم تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں چونکہ حکومت نے پالیسی بدلی ہے اور اب وہ قوانین بھی بدل رہی ہے۔

’گو کہ آپ اس قانون کے غلط استعمال کو رد نہیں کر سکتے لیکن کھلے عام جو تحریریں اور تقریریں براہ راست تشدد کو ابھاریں گی تو ہی امکان ہے کہ یہ قانون حرکت میں آئے گا۔ لیکن اگر کوئی تجزیہ دیا جائے جس میں توازن کو برقرار رکھیں تو میرا خیال ہے کہ اس کے تحت کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔‘

ایم پی او ترمیمی آرڈیننس 2015 کے مطابق کسی بھی فرد یا کمپنی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردی رکھنے، پہننے، بنانے اور بیچنے کی اجازت نہیں ہو گی، جب تک کہ اس کے پاس اس کام کے لیے باقاعدہ لائسنس موجود نہ ہو، اور اس جرم میں ملوث پائے جانے والے افراد کو بھی چھ ماہ تک قید اور 20 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

تاہم پہلی بار تمام جرائم کے سرزد ہونے کی صورت میں راضی نامے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ لیکن راضی نامے کے لیے بھی جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فی الحال تو پولیس میں اس قانون پر عمل درآمد کروانے کی اہلیت موجود نہیں اور اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس آرڈیننس کی مدت 90 دن ہے ۔لیکن توقع ہے کہ اس مدت کے پورے ہونے سے پہلے ہی اس اسمبلی سے منظور کروا کے باقاعدہ قانون کی صورت دے دی جائے گی۔

اسی بارے میں