اسلام آباد میں خفیہ ادارے کی کارروائی: چھ شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خفیہ ادارے کی کارروائی سے مقامی پولیس بھی لاعلم تھی

ملک کے ایک خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں چھاپہ مار کر چھ مبینہ شدت پسندوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والے افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان مہمند ایجنسی ہے اور وہ خراسانی گروپ کے لیے کام کرتے تھے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کے بارے میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق فوج کے ایک خفیہ اداروں کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ تحریک طالبان مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے کچھ شدت پسند اسلام آباد میں کارروائی کی غرض سے چھپے ہوئے ہیں اور وہ مناسب وقت پر حکومت یا سکیورٹی فورسز کی شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ خفیہ ادارے کے اہلکاروں کو اس بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ شدت پسند 23 مارچ کو ہونے والی پریڈ یا اس ضمن میں ہونے والی سرکاری تقریب کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس مرتبہ 23 مارچ کو پریڈ کے لیے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق مبینہ شدت پسند 23 مارچ کی تقریبات سے دو ماہ پہلے اسلام آباد میں اس لیے آئے تھے تاکہ اس عرصے کے دوران لوگوں سے شناسائی ہو سکے اور کسی کو بھی اُن پر شک نہ گزرے۔

اس اطلاع کے بعد خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کی ریکی کے بعد تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں واقع پنڈوریاں کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے چھ مبینہ شدت پسندوں کو حراست میں لے کر انھیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس کارروائی میں خفیہ ادارے کے اہلکاروں کو رینجرز کی خدمات حاصل تھیں اور مقامی پولیس کو اس کارروائی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر چوہدری اقبال نے اس واقعے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران علاقے سے سرچ آپریشن کے دوران دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور اُن کے خلاف آوارہ گردی کے جرم میں مقدمہ درج کر کے انھیں جیل بھجوا دیا ہے۔

اسی بارے میں