حامد کرزئی اتنے بدل کیوں گئے؟

Image caption حامد کرزئی نے امریکہ اور پاکستان کو بظاہر ماضی سے زیادہ کھل کر تنقید کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے کابل میں ملاقات ہوئی تو یہ تیسرا موقع تھا کہ میں ان سے ان کی زندگی کے اہم ترین موڑ پر ان سے مل رہا تھا۔

پہلی ملاقات نائن الیون حملوں سے قبل کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی جب کوئی انھیں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ وہ اس وقت ایک افغان رہنما ضرور تھے لیکن عالمی رہنما نہیں۔

ان کے والد کو 1999 میں کوئٹہ میں ہی شدت پسندوں نے مسجد جاتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود جب میں حامد کرزئی سے ملا تو ان کے اردگرد کوئی سکیورٹی نہیں تھی۔

نہ ہی اس ملاقات میں وہ اتنے پاکستان مخالف تھے جتنے آج ہیں۔ وہ آج بھی کوئٹہ میں گزرے وقت کو مسرت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

دوسری ملاقات کابل میں ان کے قصر میں 2005 میں ہوئی جب وہ بطور صدر کنٹرول میں تھے۔

اس وقت وہ پاکستان کی حد تک کچھ کہنے میں انتہائی احتیاط برط رہے تھے، لیکن ان کے مطابق یہی وہ وقت تھا جب اپنے دو قریب ترین اتحادیوں پاکستان اور امریکہ کے بارے میں ان کی سوچ میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

اب 2015 میں یعنی دس سال بعد وہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔

اپنی صدارت کے آخری ایام میں ہی ان کی پاکستان اور امریکی پالیسیوں کی شدید تنقید واضح ہو چکی تھی لیکن اب صدارت سے فارغ ہوکر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اس نظریے کو درست سمجھنے لگے ہیں کہ اس خطے میں یہ ساری صورتِ حال صرف اس لیے پیدا کی گئی کہ ایک بڑے نسلی گروپ یعنی پشتونوں کو کمزور رکھا جائے۔

اس کا ایک اشارہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر گذشتہ دنوں پاکستان کے تین پشتون سیاسی رہنماؤں آفتاب شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی اور افراسیاب خٹک کو کابل لانا بھی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سب سے زیادہ پرامید پیش رفت نئی افغان صدر اشرف غنی کی محتاط پالیسی ہے

اس بارے میں ٹھیک سے نہیں کہا جا سکتا لیکن پاکستان کی جانب سےگذشتہ چند سالوں میں افغانستان میں تعلقات محض پشتونوں تک محدود نہ رکھنے کا فیصلہ بھی شاید ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کی پشتون قیادت کو اس سوچ کی جانب مائل کر رہا ہے۔

پاکستان سابق شمالی اتحاد کے ساتھ بھی دوستی کافی آگے بڑھا چکا ہے۔ وہ ترقیاتی منصوبے اب پشتون اکثریت والے علاقوں تک محدود نہیں رکھے ہوئے ہے۔ بلخ میں یونیورسٹی جیسا منصوبہ کی اس ایک اہم مثال ہے۔ اس تبدیلی سے اگر خدشات پیدا ہو رہے ہیں تو یہ غلط ہو گا۔

پشتون کیوں مر رہے ہیں؟ مارے جا رہے ہیں؟ کیا یہ کوئی عالمی یا علاقائی سازش ہے ان کے خلاف؟ حامد کرزئی نے بھی اس انٹرویو میں اس کی جانب اشارہ اس نسلی گروپ کا نام نہیں لیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس نسلی گروپ کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے۔

ان کی یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ اس خطے میں لگی انتہا پسندی کی آگ میں پشتونوں نے سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا ہے۔ انھیں پہلے سویت یونین کے خلاف استعمال کیا گیا، پھر امریکہ کی باری آئی اور اب آپس میں لڑانے کا خطرہ طالبان اور دولتِ اسلامیہ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ شاید شدت پسندی میں اکثر عمل دخل پشتونوں کا ہے لیکن یہ کبھی بھی ایک نسل یا ملک کے شہریوں تک محدود نہیں تھی اور اب بھی اس میں اضافہ ہوا ہے۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغان اہلکاروں کے بیانات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا ان کے ملک میں کوئی وجود نہیں ہے۔ انھیں شک ہے کہ یہ افغانستان کو جنگ کی دلدل میں پھنسائے رکھنے کی غیر ملکی سازش ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں پاکستان اور امریکہ دونوں سے کہا کہ وہ اس ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کریں۔

Image caption حامد کرزئی دس سال بعد مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں

یہاں کابل میں افغانوں سے بات کر کے محسوس ہوتا ہے کہ انھیں پشاور سکول حملے کے نتیجے میں بھی پاکستان کے اس اصرار پر مکمل یقین نہیں آیا کہ اب اس کی شدت پسندوں سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل ہو رہی ہے۔

اس میں شاید مزید وقت لگے۔ عسکری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے مثبت اشارے ہیں لیکن کیا یہ دورے اور ملاقاتیں کمروں تک محدود رہیں گی؟

پاک افغان سرحد کی دونوں جانب اس معاملے کو بڑے غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دورے تو حامد کرزئی نے بھی 20 سے زائد کیے اور ان کے جواب میں پاکستانی رہنماؤں نے بھی یہی کچھ کیا ہے، لیکن آج دونوں ملک اپنی مشترکہ تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔

حامد کرزئی نے امریکہ اور پاکستان کو بظاہر ماضی سے زیادہ کھل کر تنقید کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کی یہ سوچ ان پاکستانیوں اور افغانوں کی سوچ کی عکاس ہے جو یہ مصمم رائے رکھتے ہیں کہ اگر امریکہ اور پاکستان چاہیں تو اس خطے میں بہت جلد پائیدار امن کا خواب حقیقت کا روپ اختیار کر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ پرامید پیش رفت نئی افغان صدر اشرف غنی کی محتاط پالیسی ہے۔

انھوں نے حامد کرزئی سے مشورے کے بعد ایسا کیا ہے یا پھر گذشتہ 13 سالوں میں سیکھا ہے، مگر وہ ہمسایہ ممالک کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد اب تک ان کا بھارت نہ جانا یقیناً معنی خیز مانا جا رہا ہے۔

پشتونوں کو نشانہ بنائے جانے کا خوف کتنا درست ہے یا غلط، یہ تو شاید بہت جلد واضح ہو جائے، لیکن کئی جان لیوا حملوں سے بچ جانے والے حامد کرزئی جب آج پینے کے لیے پانی بھی مانگتے ہیں تو وہ کافی دیر سے آتا ہے اور اس تاخیر کی وجہ اس کا حفاظتی جائزہ لیا جانا ہے۔

اسی بارے میں