لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر 2873 مقدمات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ میں فرقہ وارانہ مواد بیچنے والوں کے خلاف کارروائی میں بھی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت صرف صوبہ پنجاب میں لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر 2873 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جن میں سے سے 1471 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نفرت انگیز تقاریر کرنے والے 436 افراد کی پنجاب اور 17 کی خیبرپختونخوا میں نشاندھی کی گئی جن میں سے 329 کو پنجاب اور دس کو خیبر پختونخوا میں گرفتار کیا گیا۔

گرفتار کیے جانے والوں میں زیادہ تعداد مختلف مسلک اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔

ان صوبوں کی پولیس کی جانب سے فراہم کیے گئے ریکارڈ کے مطابق مقدمات درج ہونے کے بعد 339 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ اُنھیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا اور جن افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اُن میں سے کتنے افراد کو ضمانت پر رہا کیا جاچکا ہے۔

ملک کے دیگر صوبوں میں لاؤڈسپیکر ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تفصیلات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت اُن افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جو جمعہ کے خطبے کے دوران مسجد کے باہر والا سپیکر استعمال کرتے تھے۔

اہلکار کے مطابق زیادہ تر مقدمات میں پولیس نے کاغذی کارروائی کی گئی ہے جبکہ متعلقہ تھانے کی پولیس خود اس مقدمے میں نامزد افراد کو عدالتوں میں لے جا کر اُن کی ضمانت کے لیے کارروائی کرتی ہے۔

صرف صوبہ پنجاب میں 40 سے زائد ایسی دکانوں کو سیل کردیا گیا ہے جہاں پر نفرت انگیز مواد فروحت ہوتا تھا۔ دیگر صوبوں سے اس ضمن میں تفصیلات وفاقی حکومت کو موصول نہیں ہوئیں۔

بیان کے مطابق اس ایکشن پلان کے تحت اس کے علاوہ اب تک 1859 افراد کو دیگر مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں صوبہ پنجاب سے 958، صوبہ سندھ سے 244، صوبہ خیبر پختون خوا سے 234، بلوچستان سے 188 جبکہ وفاقی دارالحکومت سے 235 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پیرا ملٹری فورسز کے ملک کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جن میں سے سب سے زیادہ چھاپے صوبہ پنجاب میں مارے گئے جن کی تعداد 5487 ہے جبکہ سندھ میں 322، صوبہ خیبر پختو نخوا میں 123 اور بلوچستان میں 12 اس کے علاوہ اسلام آباد میں 275 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب میں 166000 افغان شہریوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے جبکہ باقی صوبوں سے اس کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں۔

اسی بارے میں