کوہاٹ میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اہلکار نے بتایا کہ انتطامیہ نے متاثرہ بچے کے والد تین ایم پی او کے قانون کے تحت گرفتار کرکے ڈیرہ اسمعیل خان جیل بھیج دیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس سے متاثرہ ایک بچے کے والد کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دینے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے غفلت برتنے پر محکمہ صحت اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے تین اہلکاروں کو بھی نوکریوں سے برخاست کر دیا ہے۔

کوہاٹ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد علی اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ دو دن پہلے کوہاٹ شہر کے علاقے ڈوڈا سے تین سال کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

انھوں نےکہا کہ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس کیس کی تفتیش کی اور اس دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ بچے کے والد مولانا محمد یوسف نے اپنے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ انتطامیہ نے متاثرہ بچے کے والد کو تین ایم پی او کے قانون کے تحت گرفتار کر کے ڈیرہ اسمعیل خان جیل بھیج دیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق ملزم کو اس قانون کے تحت اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ علاقے میں دوسرے لوگوں کو پولیو قطرے پلانے سے منع کر رہے تھے جس میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے دو سپروائزوں اور ایک پٹواری کو بھی مذکورہ کیس میں غفلت برتنے اور حکومت کو غلط اعداد و شمار فراہم کرنے پر نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق کوہاٹ میں اس سے پہلے کئی افراد کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

کوہاٹ میں اس سال اب تک دو بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے اور سنہ 2014 میں یہاں پولیو کے مریضوں کی تعداد 303 تھی جو گذشتہ دس سال میں سب سے زیادہ ہے۔

اس صورتِ حال میں جون 2014 میں صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے پولیو ویکسین پینا لازمی قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں