مالیاتی پالیسی:شرح سود میں ایک فیصد کمی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سٹیٹ بینک کے مطابق پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باعث ایف بی آر کے محاصل میں کمی ہوگی۔

پاکستان کے سٹیٹ بینک نے مالیاتی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی ہے جس کے بعد یہ شرح ایک فیصد کمی کے بعد آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد ہوگئی ہے۔

یہ فیصلہ 26 جنوری 2015ء سے نافذ العمل ہوگا۔

سٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے سنیچر کی شام آئندہ دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے اور پچھلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ کم ہوا ہے جبکہ بیرونِ ملک سے زرمبادلہ رقوم کی آمد سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد ملی ہے ۔

گورنر کے مطابق مالیاتی خسارے کا اب تک قابو میں رہنا حوصلہ افزا اور حکومت کی ہم آہنگ و مربوط پالیسیوں کی ساکھ اور سرکاری و نجی رقوم کی آمد کے لیے نیک شگون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مثبت تبدیلیوں کی بنا پر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی اس سال کے بقیہ مہینوں کے لیے بہتر معاشی منظرنامے پر ختم ہوئی۔

اشرف وتھرا کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی وسیع البنیاد ہے کیونکہ غذائی اور غیر غذائی اشیاء دونوں کم ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غذائی گرانی کی رفتار میں سستی بنیادی طور پر رسد کے بہتر حالات کا نتیجہ ہے جبکہ غیر غذائی گرانی میں کمی کے کئی عوامل ہیں جن میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں نیز دیگر اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی، گذشتہ محتاط زری پالیسی اور معتدل ہوتی ہوئی مجموعی طلب کے علاوہ مستحکم شرح مبادلہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے مالی سال 15ء کے لیے اوسط مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت کا تخمینہ نظرثانی کے بعد کم کرتے ہوئے 4.5 تا 5.5 فیصد کر دیا ہے، جو 8 فیصد کے سالانہ ہدف سے کافی کم ہے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تجارتی توازن پر اپنے متوقع سازگار اثر کے ذریعے اس نے حالیہ مہینوں کے دوران بیرونی شعبے کا منظرنامہ بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔ نیز آئی ایم ایف کے ای ایف ایف کے تحت چوتھے اور پانچویں جائزے کی کامیاب تکمیل اور بین الاقوامی سکوک کے اجراء سے بھی ادائیگیوں کے توازن کی مجموعی کیفیت بہتر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال نے بازار مبادلہ میں احساسات کو بہتر بنایا اور سٹیٹ بینک کو ذخائر بڑھانے کی کوششوں میں مدد ملی۔

گورنر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام جاری رہنے، اور نجکاری سے اور سرکاری رقوم کی متوقع آمد سے سٹیٹ بینک کے ذخائر مزید بڑھیں گے، لیکن مجوزہ نجکاری آمدنی نہ آنے اور نجی رقوم کے فقدان کی صورت میں ادائیگیوں کی توازن میں فرق آسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مالی سال 15ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی خسارہ قابو میں رہا اور مرکزی بینک سے حکومت کے قرضے طے شدہ اہداف سے نیچے رہے۔

حکومت پی ایس ایز سے متعلق اخراجات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہی اس لیے اس نے گذشتہ سال کی نسبت ترقیاتی اخراجات بڑھائے گئے ۔ تاہم پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باعث ایف بی آر کے محاصل میں کمی ہوگی۔

آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اخراجات بڑھنے کی وجہ سے مجموعی اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ایف بی آر کے محاصل میں متوقع کمی مالیاتی خسارے کے ہدف کا حصول دشوار بنا سکتی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق مالی سال 15ء کی پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبے کے قرضے کا استعمال پچھلے سال کی اسی مدت سے کم ہے۔

اسی بارے میں