ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف درخواست کی سماعت آج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دی جانے والی سزائے موت کے خلاف درخواست کی سماعت آج ہو گی۔

یہ سماعت جسٹس نورالحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔

یہ درخواست مجرم نے انسداد دہشت کی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی ہے جس میں عدالت نے اُنھیں موت کی سزا سُنائی تھی۔

مجرم ممتاز قادری کی درخواست کی سماعت تین سال کے بعد ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز علی شاہ نے یکم اکتوبر کو ممتاز قادری کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں دو مرتبہ سزائے موت اور ورثاء کو دو لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کی سزا سنائی تھی۔

گیارہ اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نےمجرم کی درخواست پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا جس کے خلاف وفاق نے ابھی تک عدالت عالیہ میں درخواست دائر نہیں کی۔

اس درخواست میں ممتاز قادری کی پیروی لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کی تھی۔

ممتاز قادری کا تعلق پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تھا اور وہ سلمان تاثیر کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات تھے۔ چار جنوری 2011 میں مجرم نے گورنر پنجاب کو مبینہ طور پر توہین رسالت کے قانون کے خلاف بات کرنے پر قتل کردیا تھا۔

اُدھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اس درخواست کی سماعت کے موقع پر مناسب حفاظتی اقدامات کریں اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔

اسی بارے میں