بھارتی ’مداخلت‘ کے شواہد امریکہ کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AsimBajwaISPR
Image caption ’جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے دوران شواہد امریکی قیادت کے حوالے کیے گئے‘

پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اکثر تیسری طاقت کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آتے ہیں تاہم اب حکام نے ملک کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں اپنے روایتی حریف بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد اپنے سٹریٹیجک شراکت دار امریکہ کے حوالے کیے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ایک رکن کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گذشتہ سال نومبر میں امریکہ کے دورے کے دوران امریکی حکام کو بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد فراہم کیے تھے۔

دورہ پاکستان کا، ذکر ہمسایوں کا

سیکریٹری دفاع نے اس بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔

کمیٹی کے رکن نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ’امریکہ کی اعلیٰ قیادت کو یہ شواہد فراہم کیے گئے ہیں اور انھیں کہا گیا ہے کہ آپ ایک طرف شدت پسندی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو اس میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور ہندوستان کو مغربی سرحدوں کے ذریعے مداخلت سے روکیں۔‘

امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے جواب کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا: ’امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ صدر اوباما کے دورہ بھارت کے دوران یہ معاملہ وزیراعظم مودی کے سامنے اس معاملے کو اٹھائیں گے، اب مودی اور اوباما کی گفتگو میں کیا ہوا، اس کے بارے میں معلوم نہیں لیکن فرض حقائق ان کے سامنے پیش کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا، اب ان کو آگے پہنچنا اور اس پر ایکشن لینا، یہ اب امریکہ جانے اور بھارت۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پہلی بار بھارت کی مداخلت کے بارے میں شواہد امریکہ کو فراہم کیے گئے ہیں کیونکہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف عوام اور فوج کامیابی سے بھرپور مزاحمت بھی کر رہا ہے، اور ان کوششوں کو بھارت قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں نقصان پہنچانے اور گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے شواہد اب امریکہ کے حوالے کیے گئے ہیں۔

معلومات کے مطابق امریکہ نے غیر قانونی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو ہلاک کرنے یا گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی حکام کے مطابق تحریک طالبان کے شدت پسند پاکستان سے متصل افغان علاقوں میں روپوش ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر کا کارروائیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح کے الزامات افغان حکومت اور نیٹو حکام پاکستان پر عائد کر چکے ہیں کہ’ اچھے طالبان جن میں حقانی نیٹ ورک نمایاں ہے‘ اس کے جنگجوؤں کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہاں سے یہ افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

پاکستان گذشتہ چند ماہ سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں کرنے کے متعدد بار اعلانات کر چکا ہے۔

کمیٹی کے رکن کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد سے ملک میں ایک شدت پسندی کے خلاف ایک نیا موقف آیا ہے جس میں اب اچھے اور برے طالبان کے درمیان کوئی تمیز نہیں کی جا رہی ہے۔

’ شمالی وزیرستان کے حالیہ دورے کے دوران ہم نے حقانی نیٹ ورک کے تباہ ہونے والے ٹھکانے دیکھیں ہیں۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کے بارے میں اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں خدشات آئے روز سامنے آتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سال 2009 میں مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کا معاملہ شامل تھا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کبھی گرمجوشی اور کبھی آنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سال 2013 سے دونوں ممالک کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈی پر جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزیاں کرنے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ ہفتوں دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول اور برکنگ باؤنڈری پر جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہںی

تاہم ان میں شدت اس وقت آئی جب بھارت میں قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی۔اگرچہ بے جی پی کے رہنما نریندر مودی کے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اور اب وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں زیادہ تلخی آئی ہے جس میں پاکستان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ ہندوستان نے توڑا اور اب اسے ہی پہل کرنا ہو گی جبکہ اب مذاکرات میں مسئلہ کشمیر نمایاں ہو گا۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے ہند مخالف شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائیوں کے مطالبات میں تیزی آئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہاں سکیورٹی کے کردار پر بھی کشیدگی ہے اور اسی وجہ سے موجودہ افغان صدر اشرف غنی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں کسی کو پراکسی وار یعنی درہ پردہ جنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسی طرح کے خدشات کا اظہار پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف بھی کر چکے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال نومبر میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا پاکستان اور بھارت کو افغانستان میں پراکسی وار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

اسی بارے میں