21ویں ترمیم کے خلاف درخواست پر وفاق، صوبوں سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ دے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 21ویں ترمیم کو آئین سے منافی قرار دینے سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

اُدھر پاکستان بار کونسل نے اس آئینی ترمیم کے خلاف 29 جنوری کو ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر یوم سیاہ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو لاہور بار ایسوسی ایشن کی اس درخواست کی ابتدائی سماعت کی جس میں ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کو خلاف آئین قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ایسی ترامیم کرنے کا اختیار نہیں ہے جو اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ 21ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل پر ایوان میں بحث کے لیے مناسب وقت بھی نہیں دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام سے ملک میں آئینی عدالتوں کے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔

حامد خان نے کہا کہ 21ویں تر میم آئین کے ارٹیکل 175 - 3 کو بھی ختم کرنے کے مترادف ہے جس میں عدلیہ کو مقنّنہ سے الگ کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مک میں فوجی عدالتوں کے قیام سے بنیادی انسانی حقوق کے علاوہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن آئین کی تشریح کا اختیار تو سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے اور عدالت ایسی کسی بھی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو انسانی حقوق اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان بار کونسل ملک بھر کے وکلا کی سب سے بڑی تنظیم ہے

عدالت نے اس درخواست پر اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

21ویں ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ

پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ وہ آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر جمعرات کو یوم سیاہ منائے گی۔

کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اس ترمیم اور ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں فریق بھی بنیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل ملک بھر کے وکلا کی سب سے بڑی تنظیم ہے اور اٹارنی جنرل چیئرمین کی حیثیت سے کونسل کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے منفی سوچ رکھنے والی قوتیں مزید انتہا پسندی کی طرف مائل ہوں گی۔

خیال رہے کہ پاکستانی پارلیمان نے گذشتہ ماہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انھی اقدامات کے تحت منظور کی جانے والی 21ویں ترمیم میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی منظوری دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کی منظوری متفقہ طور پر دی گئی تھی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ نے قومی اسمبلی میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا میں تین تین ، سندھ میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی جائے گی۔

اسی بارے میں