’ڈاکٹر عبدالسلام مرتے دم تک پاکستانی رہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption ڈاکٹر عبدالسلام کے لندن والے گھر میں ان کے کمرے کو میوزیم بنا دیا گیا ہے جس میں ان سے وابستہ تمام چیزیں موجود ہیں

پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو حال ہی میں نوبیل انعام ملا جو اگرچہ پاکستان کے نام ہونے والا امن کا پہلا نوبیل انعام ضرور تھا مگر تین دہائیاں قبل ایک اور پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کو سنہ 1979 میں فزکس میں گرانقدر تحقیق پر نوبل انعام ملا تھا۔

ڈاکٹر عبدالسلام کون تھے؟ اور پاکستان میں ان کی کامیابی کا ذکر اتنا کیوں ہوتا ہے؟ سائنس کے علاوہ اُن کے مشاغل کیا تھے؟ یہی جاننے کے لیے بی بی سی اردو سروس نے لندن میں مقیم ڈاکٹر عبدالسلام کے بیٹے احمد سلام سے خصوصی گفتگو کی۔

احمد سلام کہتے ہیں کہ اُن کے والد بہت شفیق اور سادہ انسان تھے لیکن وہ بہت جلد ناراض ہو جاتے اور پھر کچھ ہی دیر بعد سب بھول کر بالکل ویسے کے ویسے ہو جاتے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

انھوں نے بتایا ’ڈاکٹر عبدالسلام بڑے سائنسدان تو تھے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنس کے ساتھ انھیں انگریزی اور اردو ادب سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے غالب پر کئی مضامین لکھے ہیں اور وہ ہر موضوع پر کتابیں پڑھتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اُن کے والد کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف علم حاصل کرنا اور کتابوں سے محبت کرنا تھا اور ’علم کا یہی حصول ہمیں اپنے والد سے ورثے میں ملا ہے۔‘

ڈاکٹر عبدالسلام کے لندن والے گھر میں ان کے کمرے کو میوزیم بنا دیا گیا ہے جس میں ان سے وابستہ تمام چیزیں موجود ہیں۔

احمد سلام کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ یہ پروفیسر عبدالسلام سیدھے سادے آدمی تھے وہ نہ فینسی اور مہنگے سوٹ پہنتے تھے صرف کتابیں ہی اُن کا جنون تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالسلام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کرنا چاہتے تھے وہ پاکستان میں فزکس میں تحقیق کا ادارہ بنانا چاہتے تھے لیکن چونکہ ان کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا، جسے سنہ 1974 میں بھٹو کے دور میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا جس کے بعد ان کے لیے حالات مشکل ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اس راہ میں سرخ فیتہ حائل ہو گیا تو جو ادارہ پاکستان میں بننا تھا، وہ اٹلی میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھئیریٹکل فزکس کے نام سے قائم ہوا، جہاں تیسری دنیا کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

Image caption ڈاکٹر عبدالسلام اپنی جائے پیدائش جھنگ سے کچھ دور ہی چنیوٹ کے قریب واقع چناب نگر میں مدفون میں مگر اُن کی قبر پر لگے کتبے پر سے مسلمان کا لفظ حکومت کی حکم پر مٹا دیا گیا ہے

ڈاکٹر عبدالسلام سنہ 1960 سے 1974 تک حکومتِ پاکستان کے سائنس کے مشیر تھے۔ سپارکو اور پاکستان اٹامک انرجی کمشین جیسے ادارہ کے قیام میں بھی انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

احمد سلام کے مطابق سنہ 1974 میں جب احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور حالات غیر ساز گار ہونے کی وجہ سے وہ ملک سے باہر چلے گئے تب بھی حکومتی اداروں کےسربراہ ان سے رہنمائی لینے کے لندن یا اٹلی آتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالسلام کو ملک چھوڑ کر جانا تو پڑا لیکن وہ مرتے دم تک پاکستانی شہری ہی رہے۔ ’انھیں برطانیہ اٹلی اور یہاں تک کہ انڈیا نے اپنی شہریت دینے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے آخر وقت تک پاکستانی پاسپورٹ نہیں چھوڑا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اُن کے والد مسلمانوں کو تعلیم کے میدان آگے دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ مسلمان سائنس کے بانی تھے لیکن اب وہ اپنا ثقافتی ورثہ کھو بیٹھے ہیں۔

احمد سلام کے مطابق انھیں اس بات پر بہت افسوس تھا کہ مسلم دنیا نے علم و تحقیق سے توجہ ہٹا دی ہے۔ جب وہ مسلمان ملکوں کے دورے پر جاتے تو اسی سلسلے میں بات کرتے وہ سعودی عرب میں اسلامی یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے لیکن پھر احمدیوں کا مسئلہ شروع ہو گیا اور وہ سعودی عرب نہیں جا سکے۔ ‘

اُن کے بیٹے نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبیل انعام ملنے کے بعد عرب ممالک میں سب سے پہلے سعودی عرب نے مبارکباد دی لیکن احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد سعودی عرب نے انھیں کبھی مدعو تو نہیں کیا مگر سعودی وفود خفیہ طور پر جنیوا، ویانا اور لندن میں ڈاکٹر عبدالسلام سے آ کر ملاقات کرتے تھے۔

اگرچہ پاکستان ڈاکٹر عبدالسلام کے علم و دانش سے خاطر ِخواہ فائدہ تو نہیں اٹھا سکا لیکن سائنس کے میدان میں اُن کی خدمات کو کسی طور بھی پسِ پشت ڈالا نہیں جاسکتا جن کی بنیاد پر سائنس آج بھی نئی دریافتیں کر رہی ہے۔

اسی بارے میں