قومی لائحہ عمل کے تحت کارروائیاں، ہزاروں افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption گذشتہ ماہ وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک کر 20 نکاتی قومی لائحہ عمل مرتب کیا تھا

حکومت پاکستان کے مطابق ملک بھر میں 24 دسمبر سے لے کر اب تک ہونے والی 13 ہزار سے زائد کارروائیوں میں 10000 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے 142 ایسے ہیں جن کے شدت پسندوں سے رابطوں کا پتہ چلا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں 9074 آپریشنز میں ایک لاکھ 79309 ہزار افراد کو پکڑا گیا جن میں سے 1859 زیرحراست ہیں۔ صوبہ سندھ میں 1178 کارروائیوں میں 1178 افراد کو ہی پکڑا گیا اور اس وقت حراست میں ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں 2000 سے زائد آپریشنز میں 2887 افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ کچھ کی گئی جبکہ زیر حراست افراد کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں 30 کارروائیاں کی گئیں اور اس وقت 263 افراد زیرحراست ہیں۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 503 آپریشنز میں پانچ افراد گرفتار ہوئے، گلگت بلتستان میں 16 آپریشنز میں 97 افراد گرفتار ہوئے تاہم پوچھ گچھ کے بعد 87 افراد کو رہا کر دیا گیا۔

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں 47 آپریشنز میں 263 افراد کو پکڑا گیا تاہم اس وقت زیرحراست افراد کی تعداد 118 ہے جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں کل 322 کارروائیاں کی گئی ہیں اور یہاں 918 افراد سے تفتیش کی گئی لیکن اس وقت زیرحراست افراد کی تعداد 455 ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ سندھ میں زیرحراست افراد میں سے 35 کے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ رابطوں کا پتہ چلا، خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 103 ہے جبکہ بلوچستان میں چار افراد ایسے ہیں جن کے شدت پسندوں سے رابطوں کا پتہ چلا ہے۔

لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی

تصویر کے کاپی رائٹ epa

لاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال کرنے پر پنجاب میں 2950 مقدمات کا اندراج ہوا اور 1806 افراد گرفتار ہوئے۔

اس کے علاوہ سندھ میں پانچ مقدمات درج ہوئے، خیبر پختونخوا میں 97 مقدمات کا اندراج ہوا اور 108 افراد گرفتار ہوئے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 59 کیس رجسٹرڈ ہوئے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 45، گلگت بلتستان میں صرف ایک مقدمے کا اندراج ہوا۔

نفرت انگیز مواد

پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کے تحت نفرت آمیز مواد سے متعلق مقدمات میں پنجاب 455 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے اور وہاں کل 348 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 41 ایسی دکانوں کو سیل کیا گیا جو نفرت پر مبنی مواد کی اشاعت میں ملوث تھی۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں 23 کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور 24 مقامات سے نفرت آمیز مواد کو قبضے میں لیا گیا اور دس افراد کو گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق گلگت بلتستان میں صرف ایک کیس رجسٹرڈ ہوا، صوبہ بلوچستان میں کل آٹھ کیسز درج ہوئے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 46 مقدمات کا اندراج ہوا۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق ایک کروڑ 63 لاکھ موبائل سموں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کی گئی ہے جن میں پنجاب سے 7000، بلوچستان سے لگ بھگ ساڑھےتین لاکھ جبکہ گلگت بلتستان سے 29 افغان مہاجرین شامل ہیں۔

گذشتہ سال پشاور میں سکول پر حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس وقت کہا تھا کہ ملک سے تمام دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے مکمل خاتمے تک کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اسی بارے میں