سخی سرور دربار حملہ: ہائی کورٹ نے مجرمان کی اپیلیں مسترد کردیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ان دونوں مجرمان کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں مشہور صوفی بزرگ سخی سرور کے مزار پر حملے میں گرفتار دو مجرمان کی اپیل رد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو مجرمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

’جہاد کے لیے افغانستان بھیج رہے تھے‘

مجرمان بہرام خان اور عمر فدائی کو 2011 میں ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر خود کُش حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

بہرام خان کو مزار پر حملے کے بعد پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا جبکہ عمر فدائی کو بعد میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ان دونوں مجرمان کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔

ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر خود کُش حملے میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دربارکے داخلی دروزے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس مقام پر پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی۔ یہی دھماکہ زیادہ جان لیوا ثابت ہوا تھا۔

تقریباً 25 منٹ بعد ایک اور خود کش حملہ آور نے مزار کے عقب میں واقع ندی میں زائرین کے لیے سجائے گئے بازار میں خود کو اڑانے کی کوشش کی۔ یہاں پر زائرین کے لیے بازار بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں