کشمیر کے بغیر کوئی مذاکراتی ایجنڈا مکمل نہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا: نواز شریف

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو شامل کیے بغیر کوئی بھی مذاکراتی ایجنڈا مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔

جمعرات کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں قانون سازاسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کا معاشی مستقبل مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے اور یہ مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں منائے جانے والے یومِ یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر اپنے خطاب میں ان کا کہناتھا کہ ’تاریخی اورجغرافیائی لحاظ سے پاکستان اور کشمیر یک جان دو قالب ہیں، ہمارا صدیوں کا ساتھ ہے جو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پوری پاکستانی قوم کا مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، اور وہ پاکستان کے اس اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرارداد کی روشنی میں ہونا چاہیے اور اس کے لیے پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ ضرب عضب اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فیصلہ پاکستان کی تمام جماعتوں کی مشاورت سے کیا ہے، جس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

دہشت گردی کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ حکومتِ پاکستان دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس کے بعد قومی ایکشن پلان کی منظوری میں بھی تمام جماعتیں متفق ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف کی مظفرآباد آمد کے موقع پر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔

مظفرآباد سے صحافی خواجہ رئیس کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر کی موقع پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے مظاہرے بھی کیے گئے۔

اسی بارے میں