چارسدہ میں گاڑی پر فائرنگ، طالبہ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چارسدہ میں ماضی میں بھی سکولوں اور ان کے طلبہ کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ایک گاڑی پر فائرنگ سے ایک طالبہ زخمی ہوگئی ہے۔

یہ واقعہ جمعے کی صبح منی خیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے ایک ویگن پر گولیاں چلائیں۔

سرکاری ٹی وی نے ابتدائی طور پر حملے میں ویگن کے ڈرائیور کی ہلاکت اور تین بچوں کے زخمی ہونے کی خبر دی تھی تاہم بعدازاں صوبائی وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ حملے میں صرف ایک طالبہ زخمی ہوئی ہے۔

انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حملہ ڈرائیور کی ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی کارکن موقع پر پہنچ گئے اور زخمی بچی کو چارسدہ کے ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مسلح افراد ویگن پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پی ٹی وی کے مطابق پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی سکول پر حملے کے بعد سے ملک بھر میں تعلیمی اداروں پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تین روز قبل کراچی میں نامعلوم افراد نے دو نجی سکولوں کے قریب کریکر سے دھماکے کیے تھے اور پمفلٹ پھینکے تھے جن میں ملک میں دہشت گردوں کو دی جانے والی پھانسیوں کا سلسلہ بند نہ ہونے کی صورت میں سکول اوقات کے دوران حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔

حکام نے پشاور حملے کے بعد ملک بھر میں نجی اور سرکاری سکولوں اور کالجوں کی سکیورٹی سخت کرنے اور انھیں سکیورٹی پلان تشکیل دینے کے احکامات دیے ہیں جن پر عمل درآمد کے لیے موسمِ سرما کی تعطیلات میں تقریباً دو ہفتے کا اضافہ بھی کیا گیا تھا۔

سکولوں اور کالجوں کے منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کا مکمل ریکارڈ رکھیں، 24 گھنٹے چوکیدار تعینات کریں اور عمارتوں کی چاردیواری آٹھ فٹ تک بلند کر کے اس پر خاردار تار اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں۔

اسی بارے میں