خیبر پختونخوا اور پنجاب میں رواں سال، سندھ میں آئندہ برس بلدیاتی الیکشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے بعد اب الیکشن کمیشن نے ملک کے بقیہ تین صوبوں میں بھی ان انتخابات کے شیڈیول کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعے کو الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی صدارت میں صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں رواں برس جبکہ سندھ میں آئندہ برس بلدیاتی الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبہ بلوچستان میں یہ عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔

اجلاس کے بعد قائم مقام سیکریٹری الیکشن کمشنر شیر افگن نے بتایا کہ صوبوں نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تیاریوں کے بارے میں الیکشن کمیشن کوآگاہ کیا اور کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق کیے جانے والے اقدامات اپنے حتمی مراحل میں ہیں جس کے بعد صوبائی حکومتیں اس پوزیشن میں ہوں گی کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مئی 2015 کے آخر میں خیبر پختونخوا میں یہ انتخابات کروائے جائیں گے جبکہ پنجاب میں یہ الیکشن نومبر میں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میں سب سے آخر میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے اور اس کے لیے آئندہ برس مارچ کے مہینے کا انتخاب کیا گیا ہے۔

شیر افگن نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے حلقہ بندیوں سمیت دیگر تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں اور وہ کسی بھی وقت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے کو تیار ہیں۔

الیکشن کمشن کے قائمقام سیکرٹری کے مطابق تین صوبوں کے حکام نے الیکشن کے انعقاد کی حتمی تاریخیں نہیں بتائیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ چند روز میں اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں تین مراحل میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

اجلاس کے دوران ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور اس ضمن میں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ جلد ہی ان علاقوں میں انتخابات سے متعلق آرڈینیس جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونے کو سپریم کورٹ آئین کے منافی قرار دے چکی ہے اور اس ضمن میں صوبوں کو متعدد احکامات بھی جاری کر چکی ہے جن پر تین صوبوں میں تاحال عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔

صرف رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں تین مراحل میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی صوبے کے 32 اضلاع میں تقریباً ساڑھے دس ہزار سے زائد کونسلروں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا ہے جبکہ کوئٹہ کے میئر اور نائب میئر کے علاوہ دیگر اضلاع کی کارپوریشنوں کے ضلعی چیئرمین اور نائب چیئرمین منتخب کیے گئے ہیں۔

بلوچستان میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں سیاسی بنیادوں پر ووٹ ڈالے گئے جس میں نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ن پر مشتمل اتحاد نے اکثر علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ بی این پی مینگل، بی این پی عوامی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان اور جے یو آئی نظریاتی کے امیدوار بھی کامیاب ہوئے تاہم تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلز پارٹی چند علاقوں تک محدود رہیں۔

اسی بارے میں