’جج بھی سزا سنا سکتا ہے مگر مجرم کو ہاتھ نہیں لگا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اعلی عدلیہ کے ججوں سمیت کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے مقدمۂ قتل میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور سزائے موت سنانے والا جج بھی مجرم کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔

جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے موت کی سزا کے خلاف ممتاز قادری کی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران مجرم کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میاں نذیر احمد نے کہا کہ ’غیر معمولی حالات میں کسی کو بھی مارنے کی اجازت ہے‘۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ جج بھی قتل کے مقدمے میں مجرم کو سزائے موت تو سنا سکتا ہے لیکن اسے ہاتھ تک نہیں لگا سکتا۔

میاں نذیر نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے اسلامی ادوار کی تاریخ سے مختلف حوالے بھی دیے۔

بینچ میں شامل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر مقتول سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا تھا تو ان کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کون سا قانون لاگو ہوگا۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن پر توہین مذہب کے قانون کا اطلاق ہوگا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں قانون موجود ہے جبکہ اُن کے موکل نے قانون ہاتھ میں لے کر گورنر پنجاب کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے ججوں سمیت کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ممتاز قادری کے حمایتی بھی بڑی تعداد میں جمع تھے لیکن انھیں عدالت کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام یعنی ہولوکاسٹ کی نفی کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے جبکہ اس ضمن میں قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے برعکس آزادی اظہار رائے کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پامال کیا جارہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔

میاں نذیر احمد کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک کو بھی اس ضمن میں قانون سازی کرنی چاہیے۔

اس درخواست کی سماعت دس فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ممتاز قادری کے وکلا میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف بھی شامل ہیں جنھوں نے گذشتہ سماعت پر پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین پر حملہ کرنے والوں کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔

جمعے کے روز سماعت کے دوران بھی وکلاء کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ممتاز قادری کے حمایتی بھی بڑی تعداد میں جمع تھے لیکن انھیں عدالت کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں