تو پھر کیا کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سولہ مئی انیس سو سولہ۔

امریکہ کی سب سے بڑی جنوبی ریاست ٹیکساس کا قصبہ ویکو جو اپنی مذہبی شہرت کے سبب آج تک عیسائی بیپٹسٹ فرقے کا ویٹیکن کہلاتا ہے۔ شہر میں اس روز یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک نوجوان سیاہ فام جیسی واشنگٹن نے ایک گوری مالکن لوسی فرائر کو ریپ کے بعد قتل کردیا ہے۔

جیسی واشنگٹن کو شیرف کے سامنے پیش کیا گیا اور ہنگامی جیوری نے ملزم کو فوری اعترافِ جرم کی بنا پر بغیر کسی گواہی کے چار منٹ کی سماعت کے بعد سزائے موت سنا دی۔ جیسی واشنگٹن کو سرکاری اہلکار ٹاؤن ہال سے کھینچ کے باہر لائے جہاں دس سے پندرہ ہزار سفید فام کاشت کار، مزدور، دکان دار، عورتیں اور بچے کھڑے چیخ رہے تھے انتقام انتقام ۔ اور پھر مجمع نے جیسی کو ٹاؤن ہال کے سامنے ہی ایک درخت سے ٹانگ دیا اور نیچے آگ جلا دی۔

جیسی واشنگٹن کو لگ بھگ دو گھنٹے پولیس اہلکاروں اور سرکاری ملازموں کی موجودگی میں آگ کے شعلوں پر رسہ اوپر نیچے کرکے بھونا جاتا رہا۔ اس دوران مجمع آوازے کستا رہا، ہنستا رہا، چلاتا رہا، ناچتا رہا۔ جب آگ بجھ گئی تو جیسی واشنگٹن کے کوئلہ جسم کو ٹکڑے کرکے بطور یادگار فروخت کیا گیا۔ مقامی فوٹو گرافروں نے اس واقعے کی لمحہ با لمحہ تصاویر بنائیں اور پکچر پوسٹ کارڈ بنا کر پیسے کھرے کیے۔

ایک لڑکے نے ایسا ہی پوسٹ کارڈ خرید کے اس کے پیچھے لکھا: ’پیاری اماں! یہ گذشتہ شام کے بار بی کیو کی تصویر ہے۔ تم مجھے اس میں بائیں جانب کھڑا ہوا دیکھ سکتی ہو۔ تمہارا بیٹا جو۔‘

اور پھر قصبے کے مرکزی گرجے میں شکرانے کی عبادت ہوئی۔

(اٹھارہ سو بیاسی سے انیس سو اڑسٹھ تک امریکہ میں سرسری عوامی انصاف کے ایسے چار ہزار سات سو سینتالیس رجسٹرڈ واقعات ہوئے۔ ایک چوتھائی ہلاک شدگان وہ گورے تھے جو سیاہ فاموں کے ہمدرد تھے)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اٹھائیس فروری دو ہزار دو

بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے علاقے چمن پورہ کی مسلمان اکثریتی گلبرگ سوسائٹی کا تلواروں، ڈنڈوں، پائپوں اور مٹی کے تیل سے مسلح سینکڑوں ہندو بلوائیوں نے گھیرا کرلیا۔ انھوں نے سابق کانگریسی رکنِ پارلیمان تہتر سالہ احسان جعفری کے گھر کی دیوار توڑ کے باہر نکالا۔ ان کا ایک ایک عضو کاٹا اور پھر تیل چھڑک کے ماچس بتا دی۔ اس روز چھ گھنٹے میں 35 مسلمانوں کو اس علاقے میں یا تو سڑک پر نکال کے ٹکڑے کیا گیا یا زندہ جلایا گیا۔ پولیس کمشنر کا دفتر جائے وقوعہ سے ڈیڑھ کلو میٹر اور تھانہ ایک کلو میٹر پرے تھا اور تھانے میں اسلحے اور آنسو گیس سے مسلح ایک سو تیس اہلکار موجود تھے۔

چھ جولائی دو ہزار بارہ

جنوبی پنجاب کے قصبے چنی گوٹھ میں ایک فاتر العقل شخص غلام عباس کو توہینِ قرآن کے الزام میں کسی شخص کی شکایت پر گرفتار کرکے پولیس لاک اپ میں بند کردیا۔ اس دوران مساجد سے توہینِ قرآن کے بارے میں اعلانات ہونے پر ہزاروں مسلمانوں نے تھانے کا گھیراؤ کرکے ملزم کو لاک اپ سے نکالا اور چوک پر لے جا کر پٹرول چھڑک کے آگ لگا دی۔ لاش دو گھنٹے تک سینکڑوں تماشائیوں کے گھیرے میں سلگتی رہی۔ لاش کا کوئی وارث سامنے نہیں آیا۔

بائیس اپریل دو ہزار تیرہ

برما کے صوبے اراکان کے قصبے میکتلا میں ایک مسلمان کے ہاتھوں ایک بودھ عورت کے قتل کی خبر پھیل گئی اور مشتعل ہجوم نے بودھ بھکشؤں کی قیادت میں مسلمان املاک کو آگ لگانا شروع کردی۔ ایک نوجوان مجمع کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس کے بازو اور پاؤں تلوار سے کاٹے گئے اور پھر آگ لگا دی گئی۔ وہ پانی پانی چیختا مرگیا۔ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے بقول پولیس والے بھی تماش بین تھے۔

پانچ جولائی دو ہزار چودہ

مشرقی یروشلم کے مضافاتی جنگلاتی علاقے سے سترہ سالہ محمد ابو خدیر کی سوختہ لاش ملی۔ فلسطینی اٹارنی جنرل محمد العادی کے بقول لاش نوے فیصد جلی ہوئی تھی۔ ابو خدیر کو زندہ جلانے کے شبہہ میں اسرائیلی حکام نے تین یہودی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔

تین فروری دو ہزار پندرہ

داعش نے تئیس سالہ اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو آہنی پنجرے میں بند کرکے پٹرول اور کیمیکل کے آمیزے سے زندہ جلا دینے کی وڈیو جاری کی۔ معاذ کو چوبیس دسمبر کو داعش کے گڑھ رقہ کے نزدیک بمباری کے دوران طیارہ گرنے کے بعد پکڑا گیا اور اردنی حکام کے بقول اسے تین جنوری کو جلا دیا گیا۔

ان مثالوں کی روشنی میں یہ فرمایے کہ کوئی ایسا عقیدہ یا نظریہ یا قوم جو انسان کی انفرادی یا اجتماعی جبلی خباثت کو اکھاڑنے میں کبھی کلی یا جزوی کامیاب ہوئے ہوں؟

سوال یہ ہے کہ جب زخم ہی نہیں بھرتے

تو پھر کسی نے یہاں کون سا کمال کیا (جاوید صبا)

اسی بارے میں