بارہ مئی: ملزم کو 90 دن رینجرز کی حراست میں رکھنے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 12 مئی سنہ 2007 کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے بعد کراچی دورے پر پہنچے تھے لیکن اس روز شہر میں ہنگامہ آرائی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں گروہوں تصادم کے نتیجے میں کئی کارکن ہلاک ہوگئے تھے

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 12 مئی واقعے میں مبینہ طور پر ملوث عبدالرفیق کو مزید 90 روز رینجرز کی حراست میں رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

پیر کی صبح سخت سکیورٹی میں ملزم کو چہرے پر کپڑا ڈال کر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

رینجرز کے لاء افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سے دہشت گردی کے واقعات کی مزید پوچھ گچھ کرنی ہے اس لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس کو 90 روز کے لیے رینجرز کے حوالے کیا جائے جس پر پانچ منٹ کے اندر کارروائی مکمل کرکے ملزم کو دوبارہ رینجرز کے حوالے کردیا گیا۔

ایم کیو ایم کے وکیل محمد جیوانی کا کہنا ہے کہ رینجرز نے غیر قانونی انداز میں عبدالرفیق کو پیش کیا، رینجرز اہلکار اسلحے سمیت عدالت میں داخل ہوئے اور کمرۂ عدالت میں بھی موجود رہے اور ملزم کا چہرہ بھی ڈھانپ کر پیش کیا گیا۔

رینجرز نے اتوار کی شب میڈیا کو ایک اعلامیے کے ذریعے محموآباد کے علاقے سے عبدالرفیق کی گرفتاری سے آگاہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 12 مئی کو شاہراہ فیصل پر واقعے بلوچ پل کے قریب ہلاکتوں میں ملوث ہے اور اس نے منظور کالونی کے رہائشی عامر کی سربراہی میں یہ واردات کی تھی۔

متحدہ قومی موومنٹ نے عبدالرفیق کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔

محمود آباد سے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سید علی رضا عابدی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 53 سالہ عبدالرفیق چھ بچوں کا والد اور سٹیٹ بینک میں اکاؤنٹینٹ ہیں۔ اگر وہ رینجرز کے مطابق خطرناک ملزم ہے تو پھر بجائے مفرور ہونے کے گھر میں کیوں موجود تھا۔

واضح رہے کہ 12 مئی سنہ 2007 کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے بعد کراچی دورے پر پہنچے تھے لیکن اس روز شہر میں ہنگامہ آرائی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں گروہوں تصادم کے نتیجے میں کئی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

وکلا تنظیموں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 12 مئی واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا لیکن وکلا تنظیمیں پیچھے ہٹ گئیں اور پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی، یہ مسلم لیگ نواز نے بھی یہی تلسل برقرار رکھا۔

اسی بارے میں