خامیوں والے کاغداتِ نامزدگی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE
Image caption سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی کا عمل 12 فروری سے شروع ہوگا

لاہور ہائی کورٹ نے خامیوں والے کاغذاتِ نامزدگی پر سینیٹ انتخابات رکوانے کے لیے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ سینیٹ انتخابات کے لیے استعمال ہونے والے کاغذاتِ نامزدگی عدالت میں پیش کیے جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ حکم پیر کو مقامی وکیل شاہد پرویز جامی کی درخواست پر سرسری سماعت کے بعد دیا۔

درخواست گزار شاہد پرویز جامی نے درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے چناؤ کے لیے تو کاغذاتِ نامزدگی میں ترمیم کی گئی تھی لیکن سینیٹ انتخابات کے لیے خامیوں والے کاغذات نامزدگی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی کا عمل 12 فروری سے شروع ہوگا۔

درخواست گزار نے نشاندہی کی کہ کاغذاتِ نامزدگی میں کئی ایسے کالم شامل ہیں جو اب متروک ہو چکے ہیں لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گی۔

شاہد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ خامیوں والے کاغذاتِ نامزدگی پر امیدواروں کے بارے میں مکمل تفضیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا کہ خامیوں والے کاغذات نامزدگی کی وجہ سے امیدوار کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہوگی۔

درخواست گزار وکیل نے استدعا کی جب تک کاغذاتِ نامزدگی میں ترمیم نہیں ہو جاتی اس وقت تک سینیٹ انتخابات کو موخر کر دیا جائے۔

درخواست پر مزید سماعت 10 فروری کو ہوگی۔

اسی بارے میں